اتر پردیش کابینہ میں توسیع، چھ نئے چہرے کیے گئےشامل، بھوپیندر چودھری اور منوج پانڈے کو ملی جگہ
36
M.U.H
10/05/2026
لکھنؤ: یوگی آدتیہ ناتھ نے 2027 اسمبلی انتخابات سے قبل اتوار کو اپنی کابینہ میں اہم توسیع کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی توازن قائم کرنے کا واضح پیغام دیا۔ آنندی بین پٹیل نے جن بھون میں منعقدہ تقریب میں چھ نئے وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا، جبکہ دو وزرائے مملکت کو ترقی دی گئی۔ سب سے پہلے سابق بی جے پی ریاستی صدر بھوپیندر سنگھ چودھری نے وزیر کے طور پر حلف لیا۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے منوج پانڈے کو کابینہ میں جگہ دی گئی۔ ان کے علاوہ سریندر دلیر، کرشنا پاسوان، ہنس راج وشوکرما اور کیلاش راجپوت نے بھی وزیر کے طور پر حلف لیا۔ وہیں وزرائے مملکت اجیت پال اور سومیندر تومر کو ترقی دے کر حکومت نے تنظیمی اور علاقائی توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
سماجی توازن پر بی جے پی کی توجہ
کابینہ توسیع کو بی جے پی کی ’سوشل انجینئرنگ‘ حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ نئے وزراء میں ایک برہمن، تین او بی سی اور دو دلت چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔ خاص طور پر سابق سماجوادی پارٹی لیڈر منوج پانڈے کو شامل کرکے بی جے پی نے برہمن طبقے کو اہم سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح مغربی اتر پردیش اور جاٹ سیاست کے تناظر میں بھوپیندر چودھری کی شمولیت کو بھی کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ وزارت کا حلف لینے کے بعد کرشنا پاسوان نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ترقیاتی کاموں کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔
2027 اسمبلی انتخابات کی تیاری
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے اس کابینہ توسیع کے ذریعے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سماجی توازن، علاقائی نمائندگی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے قبل یوگی حکومت کے دوسرے دورِ حکومت کی پہلی کابینہ توسیع 5 مارچ 2024 کو لوک سبھا انتخابات سے قبل کی گئی تھی، جس میں اوم پرکاش راج بھر، دارا سنگھ چوہان، انل کمار اور سنیل شرما کو شامل کیا گیا تھا۔ آئینی ضابطوں کے مطابق اتر پردیش میں وزیراعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ 60 وزراء ہو سکتے ہیں۔ اس توسیع سے قبل یوگی کابینہ میں 54 وزراء تھے اور اب باقی چھ خالی عہدے بھی بھر دیے گئے ہیں۔