ہماری توجہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے: یورپی یونین
23
M.U.H
11/05/2026
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ "کایا کیلس" نے کہا کہ ہم "واشنگٹن" اور "تہران" کے درمیان سفارتی حل کی حمایت کرتے ہیں۔ ہماری توجہ اس وقت جنگ کے خاتمے اور "آبنائے ہرمز" کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خبر دی کہ یورپی یونین کی جانب سے مغربی کنارے میں جارح صیہونی آباد کاروں پر پابندی کا بھی امکان ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مذکورہ یونین کے وزرائے خارجہ اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مجھے جارح آباد کاروں کے خلاف پابندیوں پر سیاسی اتفاق رائے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحارب علاقوں سے یوکرینی بچوں کو بحفاظت نکالنے کے لئے یورپی یونین، روس پر مزید پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔ کایا کیلس کا کہنا ہے کہ آج کے اجلاس میں رواں مہینے کے آخر میں روس کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے موضوعات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کایا کیلس کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب گزشتہ روز خبر رساں اداروں نے "ڈونلڈ ٹرمپ" کی نام نہاد امن تجویز پر ایران کے جواب کی اطلاع دی۔ مذکورہ خبر کے نشر ہونے کے چند گھنٹے بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ میں نے ابھی ایران کا جواب پڑھا۔ یہ مجھے پسند نہیں آیا، یہ مکمل طور پر ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔ دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لئے امریکی تجویز پر باضابطہ طور پر کئی صفحات پر مشتمل جواب ارسال کیا۔ ایران کا جواب جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی پر امریکی تحفظات کو دور نہیں کرتا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایران نے تجویز پیش کی کہ امریکی محاصرے کے خاتمے کے ساتھ ساتھ جنگ بھی روکی جائے جس کے بعد بتدریج آبنائے ہرمز کھولی جائے گی۔