وزیر اعظم مودی نے کانگریس کو بنایا ہدف تنقید، کہا- اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوئی ناکام، ڈی ایم کے کو دیا دھوکہ
38
M.U.H
10/05/2026
بنگلورو میں ایچ اے ایل ایئرپورٹ کے قریب ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی مسلسل انتخابات جیت رہی ہے، جبکہ کانگریس، جس کے پاس تقریباً 40 سال پہلے 400 سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں تھیں، گزشتہ تین عام انتخابات میں 100 نشستوں کا ہندسہ بھی عبور نہیں کر سکی۔انہوں نے کہا، ’’کانگریس اور اس کے حمایتیوں کا غرور اس قدر بڑھ چکا ہے کہ وہ اپنی شکست کے لیے پوری دنیا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ آئین، جمہوریت، آئینی اداروں اور عدالتوں کو بھی موردِ الزام بناتے ہیں۔ اپنی سیاسی زندگی میں میں نے کسی بڑی سیاسی جماعت کو ایسا رویہ اپناتے نہیں دیکھا۔‘‘
ہمارا نعرہ ’سب کا وکاس‘ اور ماڈل ’سشاسن‘
پی ایم مودی نے مزید کہا کہ کانگریس شکست میں اتنی ڈوب چکی ہے کہ اس کے پاس غیر مہذب زبان استعمال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔انہوں نے کہا، ’’بی جے پی حکومتوں کے لیے عوامی فلاح ہی سب کچھ ہے۔ 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔ ہمارا نعرہ ’سب کا وکاس‘ اور ماڈل ’سشاسن‘ ہے، اسی لیے عوام بی جے پی کو دوسری اور تیسری بار بھی خدمت کا موقع دے رہے ہیں۔‘‘
’حکومت اپنا زیادہ وقت اندرونی اختلافات سلجھانے میں گزار رہی ہے‘
وزیر اعظم نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے، وہاں وہ دوبارہ اقتدار میں واپس نہیں آ پاتی۔ ان کے مطابق اقتدار میں آنے کے ایک سال کے اندر ہی عوام میں ناراضگی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ کانگریس صرف دھوکہ دینا جانتی ہے اور اس کی ’گارنٹیاں‘ بھی جھوٹی ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’کرناٹک میں بھی گزشتہ تین برسوں سے یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے حکومت اپنا زیادہ وقت اندرونی اختلافات سلجھانے میں گزار رہی ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وزیر اعلیٰ کب تک عہدے پر رہیں گے یا کسی اور کو موقع دیا جائے گا۔‘‘پی ایم مودی نے دعویٰ کیا کہ تمل ناڈو انتخابات کے دوران دہلی میں بیٹھا کانگریس کا “ایکو سسٹم” عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 4 مئی کو نتائج آنے کے باوجود اب تک کیرالہ میں حکومت تشکیل نہیں پا سکی ہے۔
کسان خودکشی پر مجبور
تلنگانہ کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ وہاں کسان خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق جہاں بھی کانگریس اقتدار میں ہوتی ہے، وہاں یا تو خوشامدی سیاست کے لیے سرکاری خزانہ لوٹا جاتا ہے یا لوٹے گئے پیسے کی بندربانٹ پر جھگڑے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’کانگریس کی شناخت ایک دھوکہ باز پارٹی کے طور پر بن چکی ہے۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کے ساتھ اس کے 30 سال پرانے تعلقات تھے۔ مرکز میں کانگریس کی قیادت والی حکومت بھی ڈی ایم کے کی حمایت سے چلتی رہی، لیکن جیسے ہی اقتدار کا پلڑا بدلا، کانگریس نے موقع ملتے ہی ڈی ایم کے کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔‘‘