مزاحمت کی طاقت نے لبنان پر حملہ رکوادیا/ہم جنگ جاری رکھنے کے لیے طاقت رکھتے ہیں: ایرانی وزیرخارجہ
6
M.U.H
04/06/2026
تہران: ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران کی مسلح افواج اورحزب اللہ کی قوت مزاحمت نے صیہونی حکومت کے لبنان پر حملے کو روک دیا ہے، کہا کہ حالیہ 40 روزہ جنگ میں امریکیوں نے ایران کی اصل طاقت کو سمجھ لیا ہے اور یہ کہ ہم اب بھی جنگ جاری رکھنے کے لیے توانائی رکھتے ہیں.
یہ بات انہوں نے لبنان کے المیادین ٹی وی کے سینئر اینکر پرسن غسان بن جدو کے ساتھ انٹرویو کے دوران مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہی۔
عباس عراقچی کی گفتگو کے چیدہ چیدہ نکات حسب ذیل ہیں:
حزب اللہ، لبنان کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کا بہت اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ قدرتی طور پر، ہم نے ہمیشہ حزب اللہ اور اس کے نظریات کی حمایت کی ہے، لیکن ہم نے کبھی مداخلت کی کوشش نہیں کی۔
لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ میں لبنان ایک لازم و ملزوم حصہ ہے۔ یہ جنگ یقیناً ایران، امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان ہے اور قدرتی طور پر لبنان اس جنگ کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے، کیونکہ یہ پوری جنگ میں شامل رہا ہے۔ ایران اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور جنگ بندی ہونی چاہیے اور ہم نے اس مسئلے پر اصرار کیا۔
گزشتہ دو دنوں میں جس چیز نے جنگ کی اس حالت کو روکا وہ مزاحمت کی طاقت تھی۔ ایران میں مسلح افواج کی طاقت اور لبنانی مزاحمت۔ جب بیروت کے نواحی علاقوں پر حملہ کرنے کا حکم جاری ہوا تو ہم نے بہت سخت موقف اختیار کیا۔ ہماری مسلح افواج ردعمل کے لیے تیار تھیں۔ اگرچہ اسرائیل کئی دنوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان اور اسی طرح لبنان میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے لیکن بیروت پر حملہ بہت بڑی خلاف ورزی تھی۔
ہم نے امریکی فریق پر واضح کردیا تھا کہ اگر بیروت پر حملہ ہوا تو ہم اسے ہر گز برداشت نہیں کریں گے اور ہماری رائے میں جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور ہماری مسلح افواج جواب دیں گی۔ میں نے یہ پیغام امریکیوں تک پہنچانے کے علاوہ خطے کے دوستوں سے بھی رابطہ کیا۔
اس رات، میری فون بک گواہ ہے؛ میں نے مختلف ممالک کو فون کیا اور کہا کہ اسرائیل کی کارروائی سے دوبارہ جنگ شروع ہو جائے گی۔ خطے کے ممالک نے بھی فون کرکے امریکہ پر دباؤ ڈالا اور بالآخر بیروت پر حملے کی اسرائیلی کارروائی روک دی گئی۔ اس کی رپورٹس میڈیا میں بھی شائع ہوئی ہیں۔ لہٰذا جو چیز فیصلہ کن ہے وہ مسلح افواج کی طاقت اور مزاحمت ہے۔
اگر دانشمندی غالب رہی تو جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔ ہم جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ فوجی طاقت، قومی ہم آہنگی اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کی خواہش دونوں لحاظ سے۔ ہماری فوجی صورتحال جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی بہتر ہے کیونکہ ہم جنگ کے دوران فوجی پیداوار جاری رکھنے کے قابل تھے اور دشمن اسے روکنے میں ناکام رہے۔
لہٰذا ہم جب تک ضروری ہو جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں۔