مہنگائی بڑھے گی اور شرح ترقی گھٹے گی، ریزرو بینک کے اندازوں نے عوام کو دیا دھچکا
19
M.U.H
05/06/2026
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے آج ریپو ریٹ سے متعلق اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا۔ ایک بار پھر آر بی آئی نے ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسے 5.25 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ ساتھ ہی مرکزی بینک نے مالی سال 27-2026 کے لیے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی- کنزیوم پرائس انڈیکس) پر مبنی افراطِ زر (مہنگائی) کے اپنے تخمینے کو 4.5 فیصد سے بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ حقیقی جی ڈی پی شرحِ ترقی کے تخمینہ کو 6.9 فیصد سے کم کرکے 6.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ہندوستانی ریزرو بینک کے ذریعہ مہنگائی کے تخمینہ کو بڑھانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ ہے۔ آئیے ذیل میں آر بی آئی کے فیصلے کی اہم وجوہات پر سرسری نظر ڈالیں۔
خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کا دباؤ:
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جس سے ہندوستان میں ایندھن اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
ڈالر کی مضبوطی:
امریکی ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی حالیہ کمزوری کے سبب ضروری اشیا کی درآمد مہنگی ہو گئی ہے۔
موسم اور زرعی پیداوار:
شدید گرمی اور مانسون کے غیر یقینی حالات کی وجہ سے دالوں، سبزیوں اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اس درمیان آر بی آئی نے رواں مالی سال کی تمام سہ ماہیوں کے لیے شرحِ نمو کے تخمینوں میں تبدیلی کی ہے، جو اس طرح ہے:
پہلی سہ ماہی (کوارٹر 1 مالی سال 2027): 6.8 فیصد سے کم کر کے 6.6 فیصد
دوسری سہ ماہی (کوارٹر 2 مالی سال 2027): 6.7 فیصد سے کم کرکے 6.3 فیصد
تیسری سہ ماہی (کوارٹر 3 مالی سال 2027): 7.0 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد
چوتھی سہ ماہی(کوارٹر 4 مالی سال 2027): 7.2 فیصد سے کم کرکے 6.8 فیصد
عام آدمی پر کیا اثر پڑے گا؟
مہنگائی میں اضافہ اور شرحِ سود کے بلند رہنے کا اثر ملک کی اقتصادی ترقی پر پڑتا ہے، کیونکہ اس سے ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر بی آئی نے موجودہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی شرحِ ترقی کے اپنے اندازوں کو بھی کم کر دیا ہے۔ جب مہنگائی 4.5 فیصد سے بڑھ کر 5.1 فیصد ہو جائے گی تو کھانے پینے کی اشیا، پٹرول، ڈیزل اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری چیزیں مہنگی ہو جائیں گی۔ عام لوگوں کو بنیادی ضروریات پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بازار میں طلب کم ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر اقتصادی سرگرمیوں اور شرحِ ترقی پر پڑے گا، اور ملک کی مجموعی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔