ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے
5
M.U.H
16/06/2026
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے منگل کے روز تہران میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مختلف ممالک کے سفیروں و سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے سفارتی نمائندوں کو آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں معاہدے کی ان شقوں پر روشنی ڈالی گئی جن کا تعلق لبنان میں جنگ اور قبضے کے خاتمے، تعمیر نو کی کوششوں اور نقصانات کے ازالے سے ہے۔
مجید تخت روانچی نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کے منجمد اثاثوں کا معاملہ بھی شامل ہے، جنہیں تہران غیرقانونی طور پر منجمد شدہ قرار دیتا ہے اور ان تک دوبارہ رسائی کو اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول پابندیوں میں نرمی ایران کے دیرینہ مطالبات میں شامل تھی اور معاہدے پر دستخط سے پہلے ہی اس پر کسی حد تک عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی، تاہم تقریب کے مقام، طریقہ کار اور یہ کہ دستخط بالمشافہ ہوں گے یا الیکٹرانک طریقے سے، اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوگا، جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر شریک ہوں گے۔
مجید تخت روانچی کے مطابق معاہدے کی ایک اہم شق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق ہے، اور امریکا نے جنگی کارروائیاں بند کرانے کو یقینی بنانے کا عہد کیا ہے۔