میرے بغیر اسرائیل کی بقا ممکن نہیں، ٹرمپ کی امیر قطر سے گفتگو
4
M.U.H
17/06/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں گروپ آف سیون (G7) کے اجلاس کے موقع پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے دوران کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ حزب اللہ کے معاملے کو شام کے سپرد کر دیا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومتوں کی تبدیلی پر یقین نہیں رکھتا، آپ جانتے ہیں، میں کئی برسوں سے حکومتوں کی تبدیلی کے تجربات دیکھتا آیا ہوں، یہ طریقہ کبھی کامیاب نہیں ہوا۔ انہوں نے ایران کی موجودہ قیادت کو انتہائی عقل مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی نمائندوں کے ساتھ کام کرنا خوشگوار تجربہ رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت ہم ایسے لوگوں کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جو میرے خیال میں بہت عقل مند ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا خوش آئند ہے، وہ مضبوط اور ذہین لوگ ہیں۔ دوسری جانب، ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ناقابلِ تصور نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ اسے (جوہری ہتھیار) تیار کریں گے، نہ خریدیں گے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی اور اقدام کریں گے، اور اگر ایسا کیا تو انہیں ناقابلِ تصور نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ ایران پہلے ہی متعدد بار یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی صورت جوہری ہتھیار کے حصول کا خواہاں نہیں، تاہم ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران کے ساتھ اپنا معاہدہ طے کر لیا ہے اور اس معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے اب ہم اسے دوسرے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں، ایک ایسا مرحلہ جو میرے خیال میں عملی طور پر زیادہ آسان ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکی افواج نے ایران میں ایک ایسے مقام کو دھماکے سے تباہ کیا تھا جہاں جوہری غبار (Nuclear Dust) موجود تھا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ انہوں نے اسرائیل کو یہ تجویز دی تھی کہ حزب اللہ کے معاملے کی ذمہ داری شام کے حوالے کر دی جائے۔ انہوں نے لبنان کی جنگ کو ثانوی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ "پائیدار رہ سکتا ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے اسرائیل کو تجویز دی کہ حزب اللہ کی ذمہ داری شام کے سپرد کر دی جائے، میرے خیال میں وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔ انہوں نے شام میں صہیونی حکومت کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ آپ ہر بار کسی ایک شخص کی تلاش میں ایک رہائشی عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دیں، کیونکہ ان عمارتوں میں بہت سے لوگ رہتے ہیں، اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان میں سے سب حزب اللہ کے رکن نہیں ہوتے، میں نے اسرائیل کو تجویز دی کہ وہ حزب اللہ کے معاملے کو شام کے سپرد کر دے، کیونکہ سچ پوچھیں تو میرا خیال ہے کہ شام اس معاملے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ لبنان میں صہیونی حکومت کی کارروائیوں سے شدید ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں لبنان کی صورتِ حال کو سنبھالنے کے اسرائیلی طریقۂ کار سے مطمئن نہیں ہوں۔ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ میں لبنان اور حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کے برتاؤ کے طریقے سے خوش نہیں ہوں۔ ٹرمپ، جو بظاہر حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے طویل ہونے پر برہم دکھائی دے رہے تھے، نے زور دے کر کہا کہ انہیں یہ کام زیادہ تیزی سے انجام دینا چاہیے تھا، یہ اب ایک نہ ختم ہونے والا عمل بن چکا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ میں نے اسرائیل سے کہا کہ بیروت پر اس کا حملہ مجھے پسند نہیں آیا، میرا بی بی (بنیامین نیتن یاہو) کے ساتھ اچھا تعلق رہا ہے، لیکن اب بی بی کو لبنان کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ایک متنازع بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ میرے بغیر اسرائیل کا وجود نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں یوکرین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ روس کے ساتھ تنازع میں یوکرین کو بھاری انسانی جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، یوکرین بہت زیادہ لوگوں کو کھو رہا ہے، ان کے ملک کی توجہ مغربی ایشیا سے ہٹ کر یوکرین کے مسئلے کے حل کی جانب منتقل ہو رہی ہے، اب خصوصی توجہ یوکرین پر مرکوز ہوگی، اب ہماری نگاہیں اسی طرف ہوں گی ہم ایران پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے، لیکن اب وہ دوسری ترجیح بن جائے گا، ماسکو اور کیف کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے جو کچھ ممکن ہوا، وہ کریں گے، پیوٹن سے پہلے بھی ایک ملاقات ہوئی تھی جو بہت اچھی رہی... اور آج بعد میں میں ان سے دوبارہ ملاقات کروں گا۔