بحرین میں پولیس کا عزاداری کی مجلس پر دھاوا، عزاداروں کی مزاحمت
15
M.U.H
17/06/2026
بحرینی حکومت کی جانب سے شیعہ برادری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تسلسل میں، اور ایسے وقت میں جب گزشتہ چند ماہ کے دوران سینکڑوں نوحہ خواں، علماء اور ثقافتی کارکنان کو گرفتار یا ان کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے، آج بدھ کی صبح منامہ کے نواحی گاؤں ابوصیبع میں حضرت امام اباعبداللہ الحسینؑ کی مجلسِ عزا پر آلِ خلیفہ کی سکیورٹی فورسز نے دھاوا بول دیا۔
بحرینی ذرائع کے مطابق، آلِ خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسز نے گاؤں ابوصیبع میں داخل ہو کر عزاداری کی علامتوں اور سیاہ پرچموں کو ہٹانے اور جمع کرنے کی کارروائی شروع کی، تاہم انہیں علاقے کے نوجوانوں کی مزاحمت اور شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر منتشر ہونے والی ویڈیوز کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے عزاداروں پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب گزشتہ شب منامہ کے متعدد علاقوں میں بڑی تعداد میں اور انتہائی پُرشکوہ انداز میں مجالس اور جلوسِ عزا منعقد ہوئے تھے۔ بظاہر بحرینی حکام نے ہزاروں شیعہ عزاداروں کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے ایک گاؤں کو نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق منامہ کے شیعہ دشمن حکام نے رمضان جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی کویت کی حکومت کے ساتھ مل کر شیعہ آبادی کے خلاف ایک وسیع کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت ایران سے تعلق یا حتیٰ کہ اس کی حمایت کے الزامات میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے یا پھر ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں پیر کے روز بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ دی کہ 12 افراد کو صہیونی امریکی جارحیت کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کرنے کے الزام میں 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔