ایران کے ساتھ امریکہ کی مفاہمت میں رکاوٹ ڈالنے پر چین کا اسرائیل کو انتباہ
8
M.U.H
18/06/2026
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان "لین جیان" نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ "بیجنگ" ہمیشہ سے مغربی ایشیاء اور خلیج فارس میں امن و استحکام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اسی لئے ہم، "واشنگٹن" اور "تہران" کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے چین اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کا ذکر کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ چین اور ایران جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ چین دلچسپی رکھتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر باہمی سیاسی اعتماد کو مضبوط و گہرا کرے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ باہمی فائدہ مند تعاون کو بڑھائے اور جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید وسعت دینے کی کوشش کرے۔ لین جیان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے پہلے مرحلے کے نفاذ اور آئندہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات پر بین الاقوامی برادری کو تحفظات ہیں، جن کی روشنی میں ہم "تل ابیب" کو ایک واضح وارننگ دیتے ہیں کہ اس نازک مرحلے پر اسرائیل سمیت تمام متعلقہ فریقین، خطے میں قیام امن کے لئے مجموعی ہم آہنگی کریں۔
مزید برآں معاہدے کی خلاف ورزی کی بجائے ایسے ٹھوس اقدامات اٹھائیں جو مفاہمتی یادداشت کے پہلے مرحلے کے نفاذ اور دوسرے مرحلے پر مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مفید و معاون ثابت ہوں۔ آخر میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر مغربی ایشیاء میں جلد از جلد پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ واضح رہے کہ چین کا یہ انتباہی بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے شدید مخالف صیہونی عہدیدار، مفاہمتی یادداشت کی شقوں کے برعکس، لبنان پر حملہ کرکے اس معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔