رام مندر عطیہ تنازعہ: 60 کلوگرام چاندی کی شیلائیں اور ہار بھی ریکارڈ سے غائب، ایس آئی ٹی تحقیقات میں مصروف
33
M.U.H
20/06/2026
رام مندر عطیہ چوری معاملہ کی ایس آئی ٹی جانچ جاری ہے۔ اس دوران ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے قیمتی عطیات یا نذرانوں کی تصاویر موجود ہیں، جن کی تلاش میں ایس آئی ٹی مصروف ہے۔ رپورٹ کے مطابق رام مندر کی پران پرتشٹھا کے دوران رام للا کو نذر کی گئی اور مندر کی بنیاد میں رکھنے کے لیے دی گئی چاندی کی شیلا تفتیش کی ایک بڑی پہیلی بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جونپور کے وشوکرما خاندان کی جانب سے پیش کردہ ہار کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں مل پا رہا ہے۔
’آج تک‘ کے مطابق جانچ کے 6 دنوں کے دوران ایس آئی ٹی نے ان عطیات کا ریکارڈ اور موجودہ حالت جاننے کی کوشش کی، لیکن اب تک کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ جویلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے رام مندر کی بنیاد میں رکھنے کے لیے دی گئی 60 کلو چاندی کی شیلاؤں کا بھی کوئی ٹھوس ریکارڈ تحقیقاتی ٹیم کو نہیں ملا ہے۔ جویلرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس شیلائیں ٹرسٹ کو سونپنے کی رسید موجود ہے۔ ادارہ کے سربراہ انوراگ رستوگی کے مطابق ملک بھر کے جویلرز کے تعاون سے تیار کی گئی 60 کلو چاندی کی شیلائیں رام مندر کو نذر کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیاد پوجن اور تعمیراتی عمل کے دوران یہ شیلائیں کہیں نظر نہیں آئیں اور بعد میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق ایس آئی ٹی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ چاندی کی شیلائیں آخر کہاں گئیں اور اس وقت ان کی کیا حالت ہے؟ اس معاملے میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو، کرشن دیو تیواری اور رام للا کے 4 پجاریوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ زیورات اور عطیات و نذرانوں کی دیکھ بھال سے وابستہ کرشن دیو تیواری نے ہار، چرن پادوکا اور چاندی کی شیلاؤں کے بارے میں معلومات ہونے سے انکار کیا ہے۔ ایس آئی ٹی کے سینئر رکن، لکھنؤ کمشنر وجے وشواس پنت، آئی جی کرن ایس اور خصوصی سکریٹری نیل رتن کمار نے پورے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے اس وقت ڈیوٹی پر موجود پجاریوں اور متعلقہ افراد سے واقعات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی۔ ایس آئی ٹی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ قیمتی نذرانوں کو جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنے کا طریقۂ کار کیا تھا۔
رام مندر میں پران پرتشٹھا کے دوران جونپور کے وشوکرما خاندان کی جانب سے رام للا کو پیش کیا گیا قیمتی ہار اور چرن پادوکا کا بھی اب تک ایس آئی ٹی کو کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے۔ جانچ کے دوران ایس آئی ٹی نے ہار اور چرن پادوکا کا سراغ لگانے کی کوشش کی، لیکن اب تک ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ اسی طرح 60 کلو چاندی کی شیلاؤں کے بارے میں بھی کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہوئیں۔ اس معاملہ میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو، کرشن دیو تیواری اور رام للا کے 4 پجاریوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ پجاری موہت پانڈے نے ایس آئی ٹی کو بتایا کہ انہوں نے ہار رام للا کو پہنانے کے بعد دوبارہ ٹنّو یادو کے حوالے کر دیا تھا۔ ٹنّو یادو کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ہار کو اینٹ کی شکل میں ڈھالنے کے لیے بنگلورو بھیج دیا گیا تھا۔ اب ایس آئی ٹی یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ ہار دراصل کہاں گیا اور اس کی موجودہ حالت کیا ہے۔
’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق ایس آئی ٹی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ چاندی کی شیلائیں آخر کہاں گئیں اور اس وقت ان کی کیا حالت ہے؟ اس معاملے میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو، کرشن دیو تیواری اور رام للا کے 4 پجاریوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ زیورات اور عطیات و نذرانوں کی دیکھ بھال سے وابستہ کرشن دیو تیواری نے ہار، چرن پادوکا اور چاندی کی شیلاؤں کے بارے میں معلومات ہونے سے انکار کیا ہے۔ ایس آئی ٹی کے سینئر رکن، لکھنؤ کمشنر وجے وشواس پنت، آئی جی کرن ایس اور خصوصی سکریٹری نیل رتن کمار نے پورے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے اس وقت ڈیوٹی پر موجود پجاریوں اور متعلقہ افراد سے واقعات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی۔ ایس آئی ٹی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ قیمتی نذرانوں کو جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور ان کا ریکارڈ مرتب کرنے کا طریقۂ کار کیا تھا۔
رام مندر میں پران پرتشٹھا کے دوران جونپور کے وشوکرما خاندان کی جانب سے رام للا کو پیش کیا گیا قیمتی ہار اور چرن پادوکا کا بھی اب تک ایس آئی ٹی کو کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے۔ جانچ کے دوران ایس آئی ٹی نے ہار اور چرن پادوکا کا سراغ لگانے کی کوشش کی، لیکن اب تک ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ اسی طرح 60 کلو چاندی کی شیلاؤں کے بارے میں بھی کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہوئیں۔ اس معاملہ میں رام شنکر یادو عرف ٹنّو، کرشن دیو تیواری اور رام للا کے 4 پجاریوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ پجاری موہت پانڈے نے ایس آئی ٹی کو بتایا کہ انہوں نے ہار رام للا کو پہنانے کے بعد دوبارہ ٹنّو یادو کے حوالے کر دیا تھا۔ ٹنّو یادو کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ہار کو اینٹ کی شکل میں ڈھالنے کے لیے بنگلورو بھیج دیا گیا تھا۔ اب ایس آئی ٹی یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ ہار دراصل کہاں گیا اور اس کی موجودہ حالت کیا ہے۔