ہم ایرانی رقوم کو امریکی کسانوں کیلئے ہی جاری کرینگے، ٹرمپ کی ہرزہ سرائی
2
M.U.H
24/06/2026
آج شائع ہونے والے اپنے ایک متنازعہ سوشل میڈیا بیان میں انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیک وقت کئی ایک دعوے، دھمکیاں اور شرائط بیان کی ہیں کہ جو تہران کے بارے واشنگٹن کی پالیسی میں موجود پیچیدگی اور تضاد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ تہران نے واشنگٹن کو براہ راست طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی ٹول، انشورنس فیس یا دیگر فیس وصول نہیں کرے گا۔ انتہاء پسند امریکی صدر نے لکھا کہ ایران نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ جعلی میڈیا میں جھوٹی اور فتنہ انگیز رپورٹس کے برعکس، کوئی ٹول، کوئی انشورنس فیس، اور کسی بھی قسم کی کوئی دوسری فیس ایران کی جانب سے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے وصول نہیں کی جا رہی ہے۔
انتہاء پسند امریکی صدر نے تہران کو واضح دھمکی دیتے ہوئے لکھا کہ اگر یہ اطلاع غلط ہے تو پھر مذاکرات بھی فوراً ختم ہوجائیں گے۔ ٹرمپ نے ایران کے منجمد اثاثوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو کوئی رقم نہیں دی گئی اور نہ ہی اس کے اثاثوں سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے ایک ایسے منصوبے کا ذکر بھی کیا کہ جو اس کے گذشتہ بیانات کے بالکل برعکس تھا اور لکھا کہ ہم ان کی رقم کا ایک حصہ، جو مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے، اپنے کسانوں اور کھیتی باڑی کرنے والوں کو مکئی، گندم، سویابین اور دیگر فصلیں خریدنے کے لئے جاری کریں گے۔
ایران کے منجمد اثاثوں کے بارے "رحم دلی" اور "انسانی ہمدردی" کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایران کو خوراک کی اَشد ضرورت ہے اور ہم یہ خوراک خصوصی طور پر امریکہ سے خریدیں گے۔