نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ اٹلی کے خفیہ تعاون کا انکشاف کر کے روم میں شدید تنقید کو جنم دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اٹلی کی حکومت نے اپنے عوامی بیانات کے برعکس، ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ کے دوران امریکہ کو اپنی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔انہوں نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے دوران اٹلی نے امریکی فوج کے 500 جنگی طیاروں کو اپنے فوجی اڈوں سے استفادہ کرنے کی اجازت دی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی کی حکومت پہلے یہ دعویٰ کر چکی تھی کہ صرف وہی لاجسٹک اور فنی پروازیں، جو امریکہ اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ معاہدوں کے تحت مجاز ہیں، ان اڈوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
روٹے کے انکشافات پر اٹلی کے وزیر دفاع نے سخت ردعمل ظاہر کیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی شدید تنقید کی ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق، مارک روٹے نے منگل کو واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا: "ایک ملک کے بعد دوسرا ملک، ایک اتحادی کے بعد دوسرا اتحادی، سب نے اپنے اڈے ہمارے اختیار میں دیے۔ اس کا مطلب ہے کہ چار ہزار سے پانچ ہزار کے درمیان طیارے یورپی اڈوں سے اڑان بھر کر آپریشن کی حمایت کے لیے روانہ ہوئے۔" انہوں نے مزید کہا: "یورپ، امریکہ کے لیے طاقت کے اظہار کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔" اٹلی کے وزیر دفاع گوئیدو کروسیٹو نے فرانسیسی اخبار میں شائع ہونے والے بیان میں روٹے کے دعوؤں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا: "صرف وہی پروازیں انجام دی گئی ہیں جو معاہدوں کے مطابق مجاز تھیں؛ روٹے کا بیان مکمل طور پر غلط ہے۔"
تاہم اپوزیشن جماعتیں اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئیں۔ گرین پارٹی کے رکن پارلیمان آنجلو بونیلی نے کہا: "میلونی نے اطالوی عوام اور پارلیمان سے جھوٹ بولا ہے۔ انہیں فوری طور پر وضاحت کرنی چاہیے کہ اصل میں کیا ہوا اور پارلیمان کو مکمل رپورٹ پیش کرنی چاہیے۔" نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اپنے انٹرویو میں رومانیہ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بخارسٹ کے ہوائی اڈے نے فوجی فضائی ایندھن رسانی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اپنی تجارتی پروازوں میں کمی کی۔ انہوں نے نیٹو کے یورپی ارکان کے مالی تعاون کو "بہت زیادہ" اور "حیران کن" قرار دیا، تاہم کوئی مخصوص اعداد و شمار پیش نہیں کیے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار یورپی اتحادیوں پر ایران کے خلاف جنگ میں ناکافی تعاون کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ اسی دوران امریکہ اپنی نئی حکمت عملی کے تحت یورپ سے بعض فوجی دستوں کے انخلا پر غور کر رہا ہے تاکہ یورپی ممالک اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالیں۔
روٹے نے انٹرویو کے ایک اور حصے میں ایران کے خلاف جنگ کے نتائج اور جاری مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ کی پالیسیوں کی بھرپور حمایت کی اور کہا: "میرا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں بالکل وہی کیا جو ضروری تھا۔ اور میرا یہ بھی ماننا ہے کہ وہ معاہدے کی طرف پیش رفت کے معاملے میں بھی درست سمت میں جا رہے ہیں۔"