امریکا، اسرائیل اور لبنان کے سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط، حزب اللہ کا سخت ردعمل
4
M.U.H
27/06/2026
امریکا نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک معاہدے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار ہوگئی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک معاہدےکا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نےکیا، جس کے بعد واشنگٹن میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ لبنان کی خودمختار حکومت اور اسرائیل کی حکومت کے درمیان امریکا کی ثالثی اور حمایت کے ساتھ فریم ورک معاہدے کا اعلان کرنے پر خوشی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ معاہدہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدے کے تحت اسرائیل اپنے شہریوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے بعد اپنی سرحدوں پر واپس جا سکے گا، لبنان کے لیے امریکا کی سہولت کاری میں ایک سہ فریقی فوجی رابطہ گروپ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کا آغاز ہے، ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
امریکا میں اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ سہ فریقی فریم ورک معاہدہ عمل درآمد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔ دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے کہا کہ فریم ورک معاہدے کے تحت لبنان کی ذمے داری ملک بھر میں ریاستی عملداری قائم کرنا ہے، مقصد اسرائیلی افواج کی لبنان کے تمام علاقوں سے انخلا یقینی بنانا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور لبنان فریم ورک معاہدے پر دستخط پر حزب اللہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ لبنان میں حزب اللہ رکن پارلیمان حسن فضل اللہ نے کہا کہ واشنگٹن میں جو کچھ ہوا، وہ اسلام آباد ٹریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ حزب اللہ لبنانی حکام کے ہر اقدام کا مقابلہ کرے گی۔ حسن فضل اللہ نے کہا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیاروں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے تیار رکھے گی۔