اسرائیل کیساتھ حالیہ معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو گا: سپریم شیعہ کونسل لبنان
3
M.U.H
27/06/2026
اعلی شیعہ کونسل لبنان (The Supreme Islamic Shi'a Council of Lebanon) کے نائب سربراہ علی الخطیب نے لبنانی حکومت اور قابض صیہونی رژیم کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کو "مذموم اسرائیلی عزائم کے سامنے ہتھیار ڈالنے" سے تعبیر کیا ہے۔ اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ لبنانی حکام نے "امریکی فرمودات" کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے، علی الخطیب نے تاکید کی کہ امریکی حکومت کو اسرائیلی مفادات کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا جبکہ اس دعوے پر؛ اس معاہدے پر نیتن یاہو کی جانب سے خوشی کے اظہار اور اسے قابض صیہونی رژیم کی "عظیم کامیابی" قرار دیئے جانے سے بڑھ کر، کوئی واضح دلیل نہیں۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ لبنانی حکام نے ملک کے جنوبی علاقوں کے باشندوں سے "کھوکھلے" وعدے کئے ہیں، نائب سربراہ سپریم شیعہ کونسل لبنان نے کہا کہ لگتا ہے کہ بظاہر، ان حکام نے قبل ازیں اسرائیل کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا کبھی مشاہدہ ہی نہیں کیا!
حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے صہیونی مطالبے کے بارے لبنانی رہنما نے کہا کہ لبنانی سرزمین سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کو مزاحمت کے تخفیف اسلحہ کے ساتھ جوڑنے سے صرف اور صرف یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہی ہو گا اور کوئی فائدہ نہ پہنچے گا کیونکہ اسرائیل کے قبضے کے باوجود، حزب اللہ لبنان کو ختم کرنا ایک غیر منطقی بات ہے۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ لبنانی حکام نے ماضی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا، علی الخطیب نے کہا کہ یہ تجربات لبنان میں ایسے تمام معاہدوں کی ناکامی کا باعث بنے ہیں کہ جن میں قومی اتفاق رائے موجود نہیں تھا جبکہ اس کی بہترین مثال 17 مئی کا معاہدہ ہے کہ جس نے لبنان کو ایک تلخ خانہ جنگی میں جھونک دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے معاہدے کا انجام بھی 17 مئی کے معاہدے سے کسی صورت بہتر نہ ہو گا جبکہ اس معاہدے میں کم از کم اسرائیلی انخلاء کی بات تو کی گئی تھی درحالیکہ اسرائیلی انخلاء کا موجودہ معاہدہ، قابض صیہونی رژیم کی جانب سے عائد کی گئی "ناممکن شرائط" کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔