پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ گورو گوگوئی کا لوک سبھا میں مرکزی حکومت پر سخت حملہ
20
M.U.H
28/07/2026
نئی دہلی: لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر منگل کو ہونے والی بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور ایوان میں حزب اختلاف کے نائب قائد گورو گوگوئی نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران ہوئی پولیس کارروائی پر کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ واضح کریں کہ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا۔
گورو گوگوئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ 20 جولائی کو پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج نوجوانوں کے مستقبل کی لڑائی تھا، جہاں والدین اپنے بچوں کو دعاؤں کے ساتھ احتجاج میں بھیج رہے تھے۔ ان کے مطابق اس موقع پر حکومت نے جمہوری آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے پیلٹ گن چلائی، ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی کو تھپڑ مارا گیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ان کے کپڑے تک پھاڑے گئے۔ گوگوئی نے کہا کہ یہ واقعات جمہوریت پر بدنما داغ ہیں اور ان کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک جاننا چاہتا ہے کہ اس کارروائی کا حکم کس نے دیا اور وزیر داخلہ کو اس بارے میں پارلیمنٹ میں جواب دینا چاہیے۔
کانگریس رکن نے سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ وزارت میں متعدد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے اور طلبہ کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ گوگوئی نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں 21 طلبہ نے خودکشی کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ استعفیٰ دینے کے بعد جب دھرمیندر پردھان پارلیمنٹ پہنچے تو بی جے پی اراکین نے ان کا ایسا استقبال کیا جیسے وہ کوئی بڑی جنگ جیت کر آئے ہوں۔
اینٹی پیپر لیک بل پر بات کرتے ہوئے گوگوئی نے کہا کہ مجوزہ ترمیمی قانون حقیقی اصلاحات کے بجائے محض دکھاوا ہے۔ ان کے مطابق حکومت دو سال قبل بھی "پبلک ایگزامینیشن (پریوینشن آف انفئیر مینز) ایکٹ، 2024" نافذ کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود یو جی سی اور نیٹ سمیت کئی اہم امتحانات میں پرچہ لیک ہونے کے واقعات پیش آئے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت مؤثر اصلاحات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سوشل میڈیا اور تشہیر کے بجائے تعلیم کے شعبے کی بہتری، پیپر لیک پر قابو پانے، کوچنگ مافیا کے خلاف کارروائی اور امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ گوگوئی نے دعویٰ کیا کہ تعلیمی نظام میں بدانتظامی اور مسلسل دباؤ کے باعث ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ خودکشی کر چکے ہیں۔
لوک سبھا میں گوگوئی کی تقریر کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے، جبکہ حکمراں جماعت نے ان کے الزامات کی مخالفت کی۔ اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تعلیم، امتحانی شفافیت اور طلبہ کے مستقبل کے مسائل ایک بار پھر سیاسی کشمکش کا مرکز بن گئے۔