سپاہ پاسداران: عراق سے امریکیوں کا اخراج، مغربی ایشیا کے بڑے شیطان بزرگ کے چنگل سے رہائی کی نوید ہے
13
M.U.H
01/10/2026
تہران :سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے عراق سے امریکیوں کے اخراج کی مناسبت سے جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں عراق کی اسلامی مزاحمت کے سربلند شہدا، بالخصوص شہید ابومہدی المہندس کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے: "عراق سے امریکیوں کا اخراج، بڑے شیطان چنگل سے مغربی ایشیا کے آزادی کی نوید ہے۔"
ارنا کی رپورٹ کے مطابق عراق سے امریکیوں کے اخراج کے موقع پر آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے: "سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، عراق اور مغربی ایشیا کے خطے کے اسلامی مزاحمتی محاذ کے سربلند شہدا، بالخصوص شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس، اور ان تمام مومن مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، جو پچھلے دو عشروں میں امریکی جارحین کے ساتھ محاذ آرائی میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئے، اس تاریخی فتح پر عراق کی غیور قوم، متحدہ اسلامی مزاحمتی محاذ اور عالم اسلام کے انقلابی مجاہدین کو مبارک باد پیش کرتی ہے۔"
آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا ہے: "امریکا نکل گیا اور وہ بھی نہ تو مذاکرات کے ذریعے اور نہ کسی احسان کے طور پر بلکہ اس قوم کے عزم و حوصلے کی وجہ سے جو ڈٹ گئی، ان مجاہدین کے خون کی برکت سے جنھوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور مزاحمت کے اس عزم سے جو کبھی نہیں ٹوٹا۔ اب سربلند و آزاد عراق، بیس سالہ غاصبانہ قبضے کے کھنڈروں پر کھڑے ہو کر آزادی کے سورج کے طلوع ہونے کا مشاہدہ کر رہا ہے۔"
اس بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے: "بلاشبہ یہ مبارک اور تاریخی واقعہ عراق کے شہداء، بالخصوص ابومہدی المہندس کے خون کا بدلہ لینے کی پہلی کڑی ہے اور اللہ کے فضل سے ان عزیزوں کے خون کا انتقام امریکا کے خطے سے مکمل اخراج کے ساتھ پورا ہوگا۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے: "امریکا کو پورے خطے سے نکل جانا چاہیے اور سیکورٹی کا انتظام خود علاقائي قوموں کے سپرد کر دینا چاہیے۔ دو عشروں کے غاصبانہ قبضے کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا کی موجودگی نہ صرف سیکورٹی نہیں لا سکی بلکہ خود اس کی موجودگي ہی مغربی ایشیا میں عدم تحفظ، دہشت گردی اور عدم استحکام کا سبب بنی۔ امریکا، بیس سال کی فوجی مداخلت کے بعد، حقیق اعداد و شمار کے مطابق نہیں بلکہ اس کے اپنے اعتراف کے مطابق تقریباً پانچ ہزار ہلاک شدگان اور چار ہزار ارب ڈالر کے خرچ کے ساتھ، عراق کے عوام کی شدید نفرت اور کینے کی بنا پر ملک سے نکال دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار امریکا کی زبردست اور ذلت آمیز شکست کی عکاسی کرتے ہیں۔"
سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں کہا ہے: "عراق سے امریکی فورسز کا انخلا ایک بڑا اور تاریخی واقعہ اور مزاحمتی محاذ کے لیے ایک عظیم فتح ہے۔ بلاشبہ عراق کی غیور قوم اس مقدس تحریک کو جاری رکھتے ہوئے اپنی معیشت اور تیل میں امریکی مداخلت کا بھی خاتمہ کرے گی اور قومی اتحاد و عزم کے ذریعے اپنے لیے ایک روشن مستقبل رقم کرے گی۔ امریکا کبھی بھی قابل اعتماد سہارا نہیں تھا اور نہ ہے اور میدانی حقائق اور واقعات واضح کرتے ہیں کہ امریکا کو جانا ہی ہے اور یہ علاقائی اقوام ہیں جنھیں اپنے ملکوں کی تعمیر کرنی چاہیے۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے: "پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ عراق سے امریکا کا اخراج، پورے مغربی ایشیا اور امت مسلمہ کی جغرافیائي حدود سے اس کے اخراج کی نوید ہے۔ یہ عظیم فتح عراق کے قومی عزم، مزاحمتی تحریکوں کی جدوجہد، عوامی حمایت اور اس ملک کی حکومت کے مؤثر اقدامات کا نتیجہ ہے۔"