ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا شاید حد سے آگے نکل گیا: ڈونلڈ ٹرمپ
3
M.U.H
13/10/2026
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا شاید حد سے آگے نکل گیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کو مذاکرات کے لیے ایرانی حکام کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اوہائیو کے شہر ینگز ٹاؤن میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ شاید امریکا نے ایرانی قیادت کے معاملے میں حد سے زیادہ کارروائی کی، کیونکہ اب یہ معلوم کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ مذاکرات کس سے کیے جائیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئی بھی ایران کا صدر بننے کے لیے تیار نہیں، ایران کے پاس اب نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، جبکہ ملک شدید مہنگائی اور مالی مشکلات کا شکار ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی فضائیہ اور تمام 159 بحری جہاز کھو چکا ہے اور یہ جہاز اب سمندر کی تہہ میں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے یہ معلوم نہیں کہ معاہدہ کیسے کیا جائے۔ ٹرمپ نے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی اہم ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔