جنتا دل یو نے مرکزی حکومت کو وقف ترمیمی بل سے متعلق 3 مشورے پیش کیے
47
M.U.H
31/03/2025
مرکزی حکومت وقف ترمیمی بل کو جلد ہی ایوان میں پیش کرنے والی ہے۔ اس سے قبل مسلم طبقہ بل کے خلاف پرامن انداز میں مظاہرہ کر رہی ہے۔ مساجد میں نمازی بطور احتجاج بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر پہنچ رہے ہیں اور کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔ اس درمیان این ڈی اے کی ایک اہم شریک پارٹی جنتا دل یو نے مرکزی حکومت کو وقف ترمیمی بل سے متعلق 3 مشورے پیش کیے ہیں۔
جنتا دل یو سے جڑے لیڈران کا کہنا ہے کہ حکومت سے ان کو یقین دلایا گیا ہے کہ جب وقف ترمیمی بل بحث کے دوران آئے گا تو پارٹی کے ذریعہ دیے گئے مشوروں کو شامل کیا جائے گا۔ پارٹی کے ذریعہ دیے گئے 3 مشوروں سے متعلق جانکاری بھی سامنے آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جنتا دل یو نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ زمین چونکہ ریاست کا معاملہ ہے، لہٰذا نئے قانون میں بھی یہی ترجیح برقرار رہے۔ دوسرا مشورہ یہ ہے کہ نیا قانون ان وقف جائیدادوں پر نافذ نہیں ہوگا جو کہ پہلے سے ہی رجسٹرڈ ہیں، لیکن غیر رجسٹرڈ متنازعہ یا سرکاری ملکیت سے متعلق فیصلہ وقف ترمیمی بل میں طے پیمانوں کے حساب سے ہوگا۔ علاوہ ازیں اگر کوئی وقف ملکیت سرکاری زمین پر ہے، تو اس کا فیصلہ بھی نئے بل کے مطابق ہوگا۔
وقف ترمیمی بل سے متعلق نتیش کمار کی پارٹی کے ذریعہ دیا گیا تیسرا مشورہ بھی اہم ہے۔ مرکزی حکومت سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی وقف ملکیت رجسٹرڈ نہیں ہے، لیکن اس پر اگر کوئی مذہبی عمارت مثلاً مسجد، درگاہ وغیرہ تعمیر ہے تو اس کو توڑا نہ جائے۔ یعنی اس کا اسٹیٹس برقرار رکھا جائے۔
دوسری طرف کانگریس لیڈر طارق انور نے 31 مارچ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے وقف ترمیمی بل جب پیش کیا جائے گا تو نتیش کمار پارلیمنٹ میں اس کے خلاف رخ اختیار کریں گے۔ یہ اچھا ہے کہ نتیش نے اس روایت کو جاری رکھا ہے جس پر وہ طویل مدت سے عمل کرتے آ رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ پیغام دیں کہ کوئی دکھاوا نہیں کر رہے ہیں۔ طارق انور نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں سے متعلق معاملوں پر بہار کے وزیر اعلیٰ کو بی جے پی کے راستہ پر نہیں چلنا چاہیے۔ ہمارا ماننا ہے کہ نتیش کمار اور چندرابابو نائیڈو وقف ترمیمی بل کی حمایت نہیں کریں گے۔