وقف ترمیمی بل پر ہلچل: راہل گاندھی اپوزیشن اجلاس میں شریک، این ڈی اے متحرک
20
M.U.H
02/04/2025
نئی دہلی: لوک سبھا میں آج وقف ترمیمی بل 2024 پیش کیا جا رہا ہے، جس پر سیاسی گرمی بڑھ گئی ہے۔ این ڈی اے اور اس کی اتحادی جماعتیں اسے پاس کرانے کے لیے پُرعزم ہیں، جبکہ اپوزیشن، خاص طور پر انڈیا بلاک، اس کے سخت خلاف ہے۔ بل کی پیشی سے قبل دونوں جانب میٹنگوں اور حکمت عملی بنانے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں بل کی مخالفت کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اس دوران راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے بیان دیا کہ یہ ترمیمی بل ’غیر آئینی‘ ہے اور ان کے مطابق، ’بی جے پی آر ایس ایس کا ایجنڈا تھوپ رہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔‘
دوسری طرف، حکمراں جماعت بی جے پی نے بھی اپنی صف بندی مکمل کر لی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو کی قیادت میں صبح 10 بجے ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں بی جے پی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کی حاضری یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ بل کی پیشی اور ووٹنگ کے دوران ایوان میں موجود رہیں۔
پارلیمنٹ میں آج دوپہر 12 بجے سے بحث شروع ہوگی، جس کے لیے بی جے پی کو 4 گھنٹے دیے گئے ہیں، جبکہ اتحادی جماعتوں سمیت این ڈی اے کے پاس مجموعی طور پر 4 گھنٹے 40 منٹ کا وقت ہوگا۔ بل پر بحث کے لیے کل 8 گھنٹے مختص کیے گئے ہیں، تاہم اگر ضروری ہوا تو اسپیکر اوم برلا وقت میں توسیع کر سکتے ہیں۔
بل کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان سخت نوک جھونک کا امکان ہے۔ جہاں حکومت اسے مسلمانوں کے حق میں ایک اصلاحی اقدام بتا رہی ہے، وہیں اپوزیشن اسے اقلیتی حقوق پر "حملہ" قرار دے رہی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بل کے ذریعے وقف جائیدادوں کے تحفظ پر منفی اثر پڑے گا اور حکومت کو انہیں کنٹرول کرنے کا موقع مل جائے گا۔
بحث کے دوران کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، سماجوادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان سخت مخالفت کریں گے، جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادی بل کو پاس کرانے کے لیے بھرپور دفاع کریں گے۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی اور سخت جملوں کے تبادلے کی توقع ہے۔
بل کی منظوری کے لیے این ڈی اے کو اکثریتی حمایت حاصل ہے، تاہم اپوزیشن اس پر ووٹنگ کے دوران کچھ غیر جانبدار جماعتوں کو اپنے حق میں لانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اسے اہم ترین بلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔