نئی دہلی: حکومت نے منگل کو لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کر دیا، جس پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس بل پر تفصیلی غور و خوض کے لیے حکومت نے 8 گھنٹے کا وقت مختص کیا ہے۔
بل پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ یہ ایک اہم قانون سازی ہے، جس پر عوام کی بڑی تعداد نے اپنی رائے دی ہے۔ ان کے مطابق، اب تک کسی بھی بل پر اتنی زیادہ درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 284 وفود نے مختلف کمیٹیوں کے سامنے اپنی بات رکھی، جبکہ 25 ریاستوں کے وقف بورڈز نے بھی اپنی رائے پیش کی ہے۔
رجیجو نے مزید کہا کہ پالیسی سازوں، ماہرین اور دانشوروں نے بھی کمیٹی کے سامنے اپنی سفارشات رکھی ہیں۔ ان کے مطابق، بل کا مقصد وقف املاک سے متعلق بہتر انتظام و انصرام اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مثبت سوچ کے ساتھ اختلاف کرنے والے بھی اس بل کی حمایت کریں گے۔
حزب اختلاف کے کچھ رہنماؤں نے اس بل کو غیر ضروری اور متنازع قرار دیتے ہوئے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تاہم، حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بل وقف املاک کے تحفظ اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہے۔