ہر شخص جنگل راج کے خاتمے کا خواہاں ہے، وزیراعظم نریندر مودی کا ترنمول کانگریس پر سخت حملہ
33
M.U.H
18/01/2026
ہُگلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ’’جنگل راج‘‘ کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ سنگور میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں عوام سے بی جے پی کی حمایت کی اپیل کی اور ریاست میں ’’اچھی حکمرانی‘‘ قائم کرنے پر زور دیا۔
خواتین اور نوجوان تبدیلی کا ذریعہ
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بنگال میں ٹی ایم سی کے دور حکومت کا خاتمہ اور بی جے پی کی اچھی حکمرانی کا آنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ہمیں سماجی مصلح ایشور چندر ودیاساگر کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنا ہوگا، جنہوں نے خواتین اور نوجوانوں کو تبدیلی کا ذریعہ بنایا تھا۔ وزیراعظم کے مطابق اب بنگال کی بہنوں، بیٹیوں اور نوجوانوں کو آگے آ کر اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔
خواتین کی سلامتی اور تعلیمی نظام پر سوال
وزیراعظم نے ٹی ایم سی حکومت پر خواتین کی سلامتی اور تعلیمی نظام میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بیٹیوں کا محفوظ نہ ہونا تشویشناک ہے اور تعلیمی نظام مبینہ طور پر مافیا اور کرپٹ عناصر کے شکنجے میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کو دیا گیا ایک ووٹ کالجوں میں تشدد اور زیادتی جیسے واقعات کو روکنے میں مددگار ہوگا اور سندیش کھالی جیسے واقعات کے دوبارہ ہونے سے بچاؤ ممکن ہوگا۔
معیاری تعلیم سے محرومی کا الزام
وزیراعظم مودی نے کہا کہ جہاں ملک بھر میں جدید پی ایم شری اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، وہیں مغربی بنگال میں بچوں کو معیاری تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے ریاست میں حکومت کی تبدیلی ضروری ہے۔ وزیراعظم نے ’’ڈبل انجن بی جے پی حکومت‘‘ کی افادیت پر زور دیتے ہوئے دیگر ریاستوں کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے ہر گھر جل اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تریپورہ میں پہلے صرف 4 فیصد گھروں کو نلکے کا پانی ملتا تھا، جبکہ بی جے پی حکومت میں یہ تعداد بڑھ کر 85 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
آیوشمان بھارت اور مرکزی اسکیمیں
وزیراعظم نے کہا کہ جو حکومتیں ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، عوام انہیں سزا دیتے ہیں۔ انہوں نے آیوشمان بھارت اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے عوام بھی اس اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے لیے تبدیلی چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ماہی گیروں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا ہے، لیکن بنگال میں اس پر عمل درآمد رک گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ایم سی حکومت مرکزی اسکیموں میں تعاون نہیں کر رہی۔ انہوں نے اس موقع پر بنگالی زبان اور ثقافت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بنگالی کو کلاسیکی زبان کا درجہ ملا اور درگا پوجا کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔
’’اب بنگال بھی جنگل راج کو الوداع کہنے کو تیار‘‘
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خواتین، نوجوان اور کسان سب ایک ہی امید کے ساتھ جمع ہوئے ہیں—حقیقی تبدیلی کی امید۔ انہوں نے کہا کہ جیسے بی جے پی اور این ڈی اے نے بہار میں جنگل راج کا خاتمہ کیا، ویسے ہی اب مغربی بنگال بھی ٹی ایم سی کے ’’میگا جنگل راج‘‘ کو الوداع کہنے کے لیے تیار ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح
جلسے سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے سنگور میں 830 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور کچھ منصوبوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، جن میں ایکسٹینڈڈ پورٹ گیٹ سسٹم اور جے رام باٹی–بارو گوپیناتھ پور–ماینا پور نئی ریلوے لائن شامل ہیں۔