نوبیل انعام نہ علامتی طور پر منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی آگے دیا جا سکتا ہے: نوبیل فاؤنڈیشن
25
M.U.H
18/01/2026
اسٹاک ہوم (سویڈن): نوبیل فاؤنڈیشن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ نوبیل انعام کسی بھی صورت میں نہ تو کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی علامتی طور پر آگے دیا جا سکتا ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں ایک نوبیل انعام یافتہ شخصیت کی جانب سے انعام کسی اور کو پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نوبیل فاؤنڈیشن نے کہا کہ نوبیل انعامات کی عظمت اور ان کے انتظام و انصرام کا تحفظ فاؤنڈیشن کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
الفریڈ نوبیل کی وصیت کا حوالہ
نوبیل فاؤنڈیشن کے بیان میں کہا گیا کہ وہ الفریڈ نوبیل کی وصیت اور اس کی شرائط کی مکمل پاسداری کرتی ہے۔ بیان کے مطابق وصیت میں واضح طور پر درج ہے کہ نوبیل انعام اُن افراد کو دیا جائے گا جنہوں نے انسانیت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہو اور ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ ہر انعام کس ادارے کے ذریعے دیا جائے گا۔ فاؤنڈیشن نے کہا: ’’اسی بنیاد پر نوبیل انعام نہ تو علامتی طور پر کسی اور کو دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے آگے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔‘‘
ٹرمپ اور ماریا کورینا ماچادو کی ملاقات کے بعد تنازع
یہ وضاحت اُس واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مچادو نے وائٹ ہاؤس میں انہیں اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔ ماریا کورینا مچادو نے، جو 2025 کا نوبیل امن انعام وینزویلا میں جمہوری حقوق اور پرامن تبدیلی کی جدوجہد پر حاصل کر چکی ہیں، صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے یہ تمغہ امریکی صدر کو آزادی اور جمہوریت کے لیے ان کی حمایت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا۔
تاریخی مثال کا حوالہ
ماچادو نے کہا: ’’دو سو سال قبل جنرل لافایئت نے سیمون بولیوار کو جارج واشنگٹن کے چہرے والا ایک تمغہ پیش کیا تھا، جسے بولیوار نے عمر بھر اپنے پاس رکھا۔ اسی روایت کے تحت ہم نے نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکہ اور وینزویلا کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔‘‘
ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کا ردعمل
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو ’’باہمی احترام کا شاندار مظاہرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر مچادو کا شکریہ ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ایک بیان میں تصدیق کی کہ ملاقات کے دوران ماچادو نے نوبیل امن انعام کا تمغہ ٹرمپ کو پیش کیا۔
نوبیل انعام کی منتقلی پر مکمل پابندی
واضح رہے کہ 16 جنوری کو نوبیل انعام کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی کہا گیا تھا کہ کوئی بھی نوبیل انعام یافتہ شخص نہ تو انعام کسی اور کے ساتھ بانٹ سکتا ہے اور نہ ہی اعلان کے بعد اسے منتقل کر سکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ نوبیل امن انعام کبھی واپس نہیں لیا جا سکتا اور یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے حتمی ہوتا ہے۔