برسلز: یورپی یونین (EU) اپنے سب سے طاقتور تجارتی جوابی ہتھیار، جسے ’ٹریڈ بازوکا‘ کہا جاتا ہے، کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے نئے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
اس پیش رفت نے 27 رکنی یورپی یونین کے رہنماؤں کو فوری اور مشترکہ ردعمل پر مجبور کر دیا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب یورپی یونین اپنے اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ (ACI)، یعنی ’ٹریڈ بازوکا‘ کو عملی طور پر نافذ کرنے پر غور کرے گی۔
ہفتے کے روز صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یکم فروری سے ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گرین لینڈ پر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یکم جون سے یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے امریکی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ یہ ٹیرف ان یورپی ممالک کے خلاف ردعمل کے طور پر عائد کیے گئے ہیں جنہوں نے گرین لینڈ کی حمایت کی ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد سفارتی تعلقات میں تیزی سے تناؤ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں اتوار کو برسلز میں یورپی ممالک کے نمائندوں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔
اجلاس میں فوری اقدامات اور امریکا۔یورپی یونین تعلقات کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اجلاس کے بعد کہا، اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی یونین پہلی بار اپنے ’ٹریڈ بازوکا‘ کا استعمال کرے۔ ’ٹریڈ بازوکا‘ سے مراد اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ (ACI) ہے، جو غیر یورپی ممالک کی جانب سے معاشی دباؤ کے خلاف یورپی یونین کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ACI کے تحت یورپی یونین امریکا کے خلاف جوابی ٹیرف عائد کرنے، یورپی سنگل مارکیٹ میں امریکی کمپنیوں کی رسائی محدود کرنے اور امریکی کمپنیوں کو یورپی یونین کے بڑے ٹھیکوں سے محروم کرنے جیسے اقدامات کر سکتی ہے۔
اس کا مقصد واضح پیغام دینا ہے کہ یورپی یونین اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ یورپی حکام کے مطابق ’ٹریڈ بازوکا‘ صرف ٹیرف تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں برآمدی کنٹرول اور اضافی پابندیاں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپی یونین ان 93 ارب یورو کے جوابی ٹیرف کو بھی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے جنہیں جولائی 2025 میں امریکا کے ساتھ ہونے والے عارضی تجارتی معاہدے کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔ یورپی سفارتی ذرائع نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے قبل امریکا کے ساتھ ہونے والے کسی تنازع نے اس قدر فیصلہ کن ردعمل کو جنم نہیں دیا تھا۔
اگلے اقدامات کا انحصار امریکا۔یورپی یونین مذاکرات پر ہوگا، تاہم یورپی رہنماؤں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا اپنی ٹیرف دھمکیوں کو برقرار رکھتا ہے یا مزید سخت کرتا ہے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کے جواب میں آٹھ یورپی ممالک نے اتوار کو گرین لینڈ کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا: ہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بیان میں آرکٹک خطے میں مشترکہ سلامتی مفادات پر بھی زور دیا گیا۔ ان نیٹو رکن ممالک نے کہا کہ وہ آرکٹک سلامتی کو ٹرانس اٹلانٹک ترجیح کے طور پر مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ یورپی یونین بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے سخت مؤقف اپنائے گی۔ یورپی کمیشن کی صدر ارزولا وان ڈر لیئن نے خبردار کیا کہ ٹیرف سے یورپی یونین اور امریکا کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اتوار کو فون پر صدر ٹرمپ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر نیٹو اتحادیوں کے خلاف ٹیرف کا استعمال غلط ہے اور اس سے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہائی نارتھ میں سلامتی تمام نیٹو اتحادیوں کے لیے ایک ترجیح ہے۔ ایسے اتحادیوں پر ٹیرف عائد کرنا جو اجتماعی نیٹو سلامتی کو یقینی بنا رہے ہیں، مناسب نہیں ہوگا۔