صدر ٹرمپ کی وزیراعظم مودی کو غزہ پیں بورڈ میں شمولیت کی دعوت
24
M.U.H
19/01/2026
نئی دہلی: امریکہ نے بھارت کو غزہ میں امن کے قیام کے لیے تشکیل دیے گئے ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اس اہم عالمی فورم میں شمولیت کی پیشکش کی ہے۔ اس اقدام کو غزہ میں جنگ کے بعد امن، استحکام اور تعمیرِ نو کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔غزہ پیس بورڈ صدر ٹرمپ کی ایک اہم اور بلند حوصلہ سفارتی پہل ہے، جس کا مقصد جنگ کے بعد غزہ میں نظم و نسق، روزمرہ انتظامی امور اور دوبارہ تعمیر کے عمل کی نگرانی کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے 16 جنوری کو اس پیس بورڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس میں بیس نکاتی امن منصوبہ شامل ہے۔ اس منصوبے کو مستقبل میں دنیا کے دیگر تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر عالمی میکنزم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دنیاکے ساٹھ ممالک کو دی گئی ہے، جن میں یورپ کے کئی اہم ممالک بھی شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اس بورڈ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم غزہ میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق، بورڈ کا بنیادی کام غزہ کے روزمرہ معاملات پر نظر رکھنا، انتظامی بہتری کو یقینی بنانا اور علاقے کی ازسرِنو تعمیر کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانے کے لیے عالمی سطح پر مالی وسائل جمع کرنے کے منصوبے بھی اسی بورڈ کے تحت ترتیب دیے جائیں گے۔
امریکہ نے بھارت کے علاوہ چار دیگر ممالک کو بھی اس پیس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، اگر کوئی ملک مستقل رکن بننا چاہتا ہے تو اسے ایک ارب امریکی ڈالر کا تعاون دینا ہوگا، جبکہ تین سالہ رکنیت کے لیے کسی قسم کی مالی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔یہ دعوت بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار اور اس کی جیو سیاسی اہمیت کی عکاس ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا مختلف خطوں میں تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، بھارت کی شمولیت اسے عالمی سطح پر امن اور مفاہمت کا ایک فعال شراکت دار بناتی ہے۔
امریکہ میں بھارت کے لیے تعینات امریکی سفیر سارجیو گورے نے صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو یہ دعوت پہنچائی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام وزیر اعظم مودی تک پہنچا رہے ہیں اور غزہ پیس بورڈ میں بھارت کی شرکت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔صدر ٹرمپ کی اس پہل سے غزہ میں امن کے قیام کی امیدیں مزید مضبوط ہوئی ہیں اور بھارت جیسے بڑے ملک کی شمولیت سے اس عالمی کوشش کو وسیع حمایت حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔