حضرت غفران مآب کی شخصیت اور خدمات پر علمی نشست کا انعقاد
18
M.U.H
18/01/2026
لکھنؤ18،جنوری : مجدد الشریعتہ ،محیی الملتہ ، آیت اللہ العظمیٰ سید دلدار علی غفران مآب کی یاد میں نور ہدایت فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک علمی نشست بعنوان’’ یاد غفران مآب‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس نشست میں علماء اور مفکرین نے حضرت غفران مآب کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالی ۔
نشست کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے قاری مولوی صائم رضا نے کیا ۔اس کے بعد محمد اعدل وصیف جائسی نے یوم مبعث کی مناسبت سے حمدو نعت پیش کیں ۔ اس کے بعد باقاعدہ نشست کا آغاز ہوا ۔ پروگرام کے کنوینر مولانا مصطفیٰ حسین نقوی اسیف جائسی نے تعارفی کلمات میں کہا کہ حضرت غفران مآب کے کارنامے تاریخ میں آفتاب کی طرح روشن ہیں ۔افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں علمی اور تحقیقی تن آسانی زیادہ بڑھتی جارہی ہے جس کی بنا پر ہم اپنے علماء اور محسنوں کے کارناموں سے واقف نہیں ہو پا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حضرت غفران مآب کا احسان نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے برصغیر پر ہے ۔وہ خالص تشیع اور عزاداری کے ہندوستان میں بانی ہیں اور مروج بھی ۔ انہوں نے شیعی معاشرہ کو اٹھارویں صدی میں سماجی ،فکری اور اعتقادی پسماندگی سے باہر نکالا اور عظیم تحریک شروع کی ،جس پر تحقیق کی ضرورت ہے ۔
ڈاکٹر کلب سبطین نوری نے اس نشست کے انعقاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نور ہدایت فاؤنڈیشن اور مولانا اسیف جائسی نے تاریخ پر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹایا ہے ۔ہم نے بھی اپنے خانوادے کے علمی اور کلامی خدمات کو انھیں کے توسط سے جانا اور پہچانا۔
مولانا حیدر مہدی کریمی نے حضرت غفران مآب کے امتیازات پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ حضرت غفران مآب نے اٹھارہویں صدی میں شیعوں کو بحیثیت قوم کے شناخت دی ۔ نماز جماعت اورنماز جمعہ کا قیام کیا ۔شرعی عدالت قائم کرنے کی کوشش کی ۔مدرسے کی بنیاد رکھی اور شیعوں کا الگ امتیاز قائم کیا ۔
مولانا مشاہد عالم رضوی نے حضرت غفران مآب کے خدمات کی تمجید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں وہ پہلی ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ایسے مدرسے کی بنیاد رکھی جس نے شیعی معاشرے میں فکری اور علمی انقلاب برپا کیا ۔ہمیں آج بھی ایسے مدارس کی ضرورت ہے ۔البتہ مدرسے سے آج کا مدرسہ مراد نہیں ہے بلکہ وہ مدرسہ جہاں ہر علم موجود ہو،علمی اور فکری آزادی ہو ۔جہاں ملت کی فلاح اور ترقی اور تربیت کی منصوبہ سازی ہوتی ہو ۔
مولانا تقی رضا برقعی نے حضرت غفران مآب کی کلامی خدمات پر تفصیلی مقالہ پش کرتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر میں جہاں توحید پر بحثیں ہورہی ہیں ایسی حالات میں ہمیں حضرت غفران مآب کی تحریروں کا مطالعہ کرنا چائیے ۔خاص طور پر عماد الاسلام ایسی کتاب ہے جس میں توحید کے مباحث پر عالمانہ ،فلسفیانہ اور منطقیانہ انداز میں بحث کی گئی ہے ۔
صدارتی تقریر میں مولانا کلب جواد نقوی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حضرت غفران مآب کے امتیازات پر بھی گفتگو کی ۔انہوں نے کہا کہ حضرت غفران مآب جیسی شخصیات نابغہ روزگار ہوتی ہیں ۔ انہوں نے معاشرے میں انقلاب برپا کیا اور ایسے شاگرد تیار کئے جنہوں نے ہندوستان کے گوش و کنار میں معارف محمد و آل محمد علیہم السلام کو پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جتنے بھی علمی خانوادےہیں انکا رشتہ علمی حضرت غفران مآب سے ملتا ہے ۔
پروگرام میں حضرت غفران مآب کے خدمات پر ایک کتاب کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی جس کو مولانا اسیف جائسی نے ترتیب دیا ہے ۔اس کتاب میں مختلف علماء اور دانشوروں کے مقالات شامل ہیں ۔
اس علمی نشست کا انعقاد ’’ مکتب فقہی و کلامی حضرت غفران مآب‘‘ کی طرف سے نور ہدایت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام شیش محل روبرو پکچر گیلری واقع دفتر میں ہوا ۔نظامت کے فرائض عادل فراز نے انجام دئے۔نور ہدایت فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری احمد عباس نقوی ممبئی نے سبھی شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔اس نشست میں مولانا غضنفر نواب ،مولانا تقی حیدر نقوی ،مولاناغلام رضا ،مولاناقربان علی،مولانا مشاہد عالم رضوی،مولانامحمد حسن،مولانانظرعباس،مولاناعقیل عباس،مولانامحمد حسین،مولاناعباس اصغر شبریز،مولاناعلی ہاشم عابدی،مولانا احمدرضا،مولانا گلفام عابد رضوی،جناب نجمی صاحب یونٹی کالج ،ڈاکٹر ظفر النقی ،ڈاکٹر منور حسین ،ڈاکٹر امانت حسین ،امان عباس روزنامہ صحافت اور دیگر اہم افراد موجود رہے ۔