وزیراعظم مودی نے جمہوریت میں تشدد کو ناقابل قبول قراردیا، وائٹ ہاؤس ڈنر پر فائرنگ کی سخت مذمت، امریکی قیادت کی سلامتی پر اظہار اطمینان
38
M.U.H
26/04/2026
نئی دہلی/واشنگٹن: امریکہ کے دارالحکومت میں منعقد ہونے والی وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد نریندر مودی نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری معاشروں میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس اس حملے میں محفوظ رہے۔ انہوں نے امریکی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
ہفتے کی شام (مقامی وقت کے مطابق) واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب لابی میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ اس کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ یہ تقریب، جس میں میڈیا، سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے، اچانک پیش آنے والے اس واقعے کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق، ابتدائی طور پر لوگوں کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہوا، لیکن چند لمحوں میں پورا ہال خوف و ہراس کا شکار ہو گیا۔
مودی کا بیان اور عالمی پیغام
وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے واقعات جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور انہیں پوری قوت کے ساتھ مسترد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مل کر اس طرح کے تشدد کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ ان کا یہ بیان نہ صرف امریکہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے بلکہ ایک وسیع تر پیغام بھی ہے کہ سیاسی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ کا ردعمل اور سکیورٹی پر زور
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی فوری اور بہادرانہ کارروائی کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کو قابو میں کر لیا گیا ہے اور ایک سیکیورٹی اہلکار زخمی ہونے کے باوجود محفوظ ہے۔ ٹرمپ نے اس واقعے کو سکیورٹی نظام مزید مضبوط بنانے کی ضرورت سے جوڑا اور کہا کہ مستقبل میں ایسے پروگراموں کے لیے زیادہ محفوظ انتظامات ضروری ہیں۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں جدید اور محفوظ بال روم بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کو سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی ان پر انتخابی مہم کے دوران حملے کی کوشش ہو چکی ہے، جس کے بعد سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے تھے۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ عالمی رہنماؤں کی حفاظت کے لیے جدید اور مضبوط سکیورٹی نظام کس قدر ضروری ہے۔ واشنگٹن میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ نریندر مودی سمیت عالمی رہنماؤں کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جمہوری نظام میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔