سابقہ حکومتوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا، موجودہ حکومت اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے: مولانا ارشد مدنی
36
M.U.H
18/05/2026
نئی دہلی: جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم دوروزہ اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ نفرت کی سیاست کی جگہ اب دھمکی آمیز سیاست نے لے لی ہے، اس کا مقصدصرف اور صرف مسلمانوں کوڈرا دھمکا کریہ باورکرانا ہے کہ اب انہیں یہاں ایک مشروط زندگی گزارنی ہوگی اورجوایسا نہیں کرے گا، اس کی جگہ جیل میں ہوگی، اس طرح کی نئی سیاست قانون اورآئین کی بالادستی پرایک سوالیہ نشان ہے، جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے یہ بات جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کی دوروزہ میٹنگ میں آج اپنے صدارتی خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدارکے لئے کچھ لوگ امن واتحاد کے ساتھ ایک خطرناک کھلواڑکررہے ہیں۔ سیاست کی اس نئی روش سے پورے ملک میں منافرت اورمذہبی شدت پسندی کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے۔ حالات کچھ اس قدردھماکہ خیزہوچکے ہیں کہ جس کودیکھوآگ اگل رہا ہے، مسلمانوں کی تذلیل کررہا ہے اورقانون کے رکھوالے ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے آگے کہا کہ ابھی پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہوئے، بطورخاص مغربی بنگال اورآسام میں کھلے عام انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اشتعال انگیزیاں کی گئیں اورمسلمانوں کوکھلے عام دھمکیاں بھی دی گئیں، الیکشن جیت لینے کے بعد بھی دھمکیوں کا یہ مذموم سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نومنتخب وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ مسلمانوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیااس لئے ہم ان کا کام نہیں کریں گے، آئین اورجمہوریت دونوں کا مذاق اڑانے جیسا ہے، کیونکہ آئین ہرشہری کو برابرکا حق دیتا ہے اورجمہوریت نے ہرشہری کو اپنی پسند کا لیڈرمنتخب کرنے کا اختیاردیا ہے، اسی لئے الیکشن بھی ہوتے ہیں، چنانچہ اگرکوئی شہری کسی کوووٹ نہیں دیتا تویہ کوئی جرم نہیں ہے، مگرآج کی سیاسیت میں اسے بھی جرم بنا دیا گیا ہے، حکمرانوں نے ڈراورخوف کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے، لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت ڈراورخوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف ہی سے چلا کرتی ہے۔ مغربی بنگال کے نومنتخب وزیراعلی کے اس بیان ’’میں صرف ہندوؤں کے لیے کام کروں گا‘‘ کونفرت اورمذہبی شدت پسندی کا جنون قراردیتے ہوئے کہا کہ ہروزیراعلیٰ ایشورکوگواہ بنا کریہ عہد کرتا ہے کہ میں آئین اورقانون کے مطابق بلا خوف یا رعایت بغیرکسی محبت یا عداوت کے تمام طبقات (All manner of people) کے ساتھ انصاف کروں گا۔ اس عہد کے بغیرنہ کوئی شخص وزیراعلی بن سکتا ہے نہ ہی وہ اس منصب پربرقراررہنے کا اخلاقی جوازرکھتا ہے۔
ملک کو منصوبہ بند طریقہ سے نظریاتی مملکت میں تبدیل کرنے کی کوشش: مولانا ارشد مدنی
مولانا سید ارشد مدنی نے صاف صاف کہا کہ ملک کو منصوبہ بند طریقہ سے نظریاتی مملکت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہورہی ہے، آئینی اداروں کی بے بسی کی وجہ سے وہ اپنی اس کوشش میں بھی کامیاب ہوتے جارہے ہیں، کئی ریاستوں میں یکساں سول کوڈنافذ ہوچکاہے ، اب آسام میں بھی یکساں سول بل لانے کی تیاری ہورہی ہے، ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ وندے ماترم جیسے متنازعہ گیت کو قومی گیت قراردیا جاچکا ہے۔ بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں اسے لازمی بھی قراردیا گیا ہے۔ دوسری طرف مساجد، مقابراورمدارس کوغیر قانونی کہہ کرمسمارکیا جارہا ہے، مدرسوں کولے کرہرروزنئے نئے فرمان جاری ہورہے ہیں گویا یہ تعلیمی ادارے نہ ہوکر ایسے ادارے ہیں جہاں غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جنگ لڑرہی ہے، کئی معاملوں میں عدالتوں سے اسے انصاف بھی مل چکا ہے۔ اس موقع پرمولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃعلماء ہند جلد ہی مرکزی اورصوبائی سطح پر ایک مدرسہ بورڈقائم کرنے جارہی ہے ، جس سے تمام مدارس کو جوڑاجائے گا اورمدارس کے تعلق سے پیدا ہونے والے مسائل کوحل کرنے کے لئے اجتماعی کوشش بھی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یکساں سول کوڈ کے خلاف بھی ہماری قانونی لڑائی جاری ہے۔
وندے ماترم کو قومی ترانے کے مساوی قراردینے کے فیصلے کو کردیا مسترد
جمعیۃ علماء ہند مرکزی کابینہ کے اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے جن من گن کے مساوی درجہ دینے اوراس کے تمام 6 بند لازمی قراردینے اورتمام سرکاری اورتعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو ضروری قراردیا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اسے دستورہند کی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولراقداراورکانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے سراسر خلاف قراردیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے اسے فوری طورپرواپس لے۔ اگراس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا توجمعیۃ علماء ہند اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔
ایس آئی آرکی آڑ میں حقیقی شہریوں کو ووٹ سے محروم کرنے کی کوشش: جمعیۃعلماء ہند
انہوں نے ایس آئی آرکی آڑمیں حقیقی شہریوں کو ووٹ سے محروم کردینے کی مہم پرسخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ ایس آئی آرنہیں این آرسی ہے اوراس کے ذریعہ متعدد ریاستوں میں مسلمانوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے، اس ضمن میں مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27لاکھ ووٹروں کو مشکوک قراردیکر ووٹ کے حق سے محروم کردینا جمہوریت پر ایک سیاہ داغ ہے ، رپورٹوں کے مطابق ان 27لاکھ لوگوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک بات تویہ ہے کہ کچھ مفادپرست مسلمان بھی بی جے پی کے نظریہ پر کام کررہے ہیں ، وہ دانستہ ایسے بیان دیتے ہیں جس سے فرقہ ورانہ صف بندی قائم ہوجائے ، مغربی بنگال اورآسام کے حالیہ اسمبلی الیکشن کے دوران ان مفادپرست لوگوں کے بیانات سے جو نقصان ہوااس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ایس آئی آر کے تیسرے مرحلہ کا بھی اعلان ہوچکاہے ، مسلمانوں کو بہت بیداراورمحتاط رہنے کی ضرورت ہے ، تمام ضروری کاغذات پہلے سے تیارکرلینا چاہئے جمعیۃعلماء ہند کے رضاکارحسب معمول ان تمام ریاستوں میں لوگوں کی معاونت کریں گے، ایس آئی آرفارم جلد بازی میں نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر بھراجانا چاہئے کیونکہ ایک معمولی غلطی کو بھی ایک فاش غلطی سے تعبیر کرکے مسلمانوں کی شہریت پر سوال کھڑے کئے جاسکتے ہیں۔
ووٹرلسٹ سے مسلمانوں کا نام جان بوجھ کرکاٹنے کا الزام
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پورے عمل کا مقصدووٹرلسٹوں کی درستگی نہیں بلکہ مسلم ووٹ کوکم کرنا ہے یہ کام کئی سطح پرہورہا ہے، آسام میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کے ذریعہ مسلم ووٹ کو بے اثرکردیا گیا ، دوسری ریاستوں میں بھی نئی حدبندی کی آڑمیں یہ کھیل شروع ہوسکتا ہے، تاکہ ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ ایسا نہیں ہے کہ پہلے جولوگ اقتدارمیں تھے وہ اس میں شریک نہیں ہیں بلکہ انہوں نے بھی مسلمانوں کوسماجی ، تعلیمی ، سیاسی اوراقتصادی طورپر نقصان پہنچانے کی ہمیشہ کوششیں کیں، مسلم کش فسادات بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن تب میں اوراب میں ایک بڑافرق یہ ہے کہ اس وقت مسلمان نشانہ پرتھے، مگراب اسلام بھی نشانہ پرہے۔ 2014 کے بعد جونئے قانون لائے گئے یا اب بھی لائے جارہے ہیں، وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے موجودہ حکومت صرف مسلمانوں کونہیں بلکہ اسلام کوبھی نقصان پہنچانا چاہتی ہے، یہ سب کچھ عالمی سطح پربھی ہورہا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اسلام پوری دنیا میں جس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس نے اسلام سے عناد اوربغض رکھنے والوں کو خوف زدہ کردیا ہے۔ اس لئے اسلام کے خلاف ہرسطح پر پروپیگنڈہ بھی ہورہا ہے، تاکہ اسلام کی شبیہ کوخراب کردیاجائے، ایسا کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اسلام ایک آسمانی مذہب ہے اس کومٹانے والے خود مٹ گئے مگریہ زندہ رہا اورقیامت تک زندہ رہے گا۔
مسلمان محب وطن شہری، ملک کی ترقی میں برابرکا شریک: مولانا ارشد مدنی
مولانا ارشد مدنی نے سابق سوویت روس کا حوالہ دیا جہاں کمیونزم کو بڑھاوادے کراسلام کوختم کرنے کی برسوں کوششیں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ مساجد اوردینی مدارس پرپابندیاں عائد کردی گئیں، برسوں کسی مسجد سے اذان کی آوازتک نہیں آئی، مگرپھردنیا نے دیکھا کہ روس ٹکرے ٹکڑے ہوگیا اوراس کے بعد کئی مسلم مملکتیں وجود میں آگئیں تمام ترظلم اوربربریت کے باوجود اسلام زندہ رہا مسلمان زندہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مسلمان ایک محب وطن شہری ہے اورملک کی ترقی میں برابر کا شریک بھی ہے ، اس کی حب الوطنی پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگایا گیا مگر ہر نازک موقع پر اس نے اپنے کرداروعمل سے ثابت کیا کہ وہ ایک محب وطن شہری ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ اگر بعض عقل کے ماروں کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ دھمکیوں اور اقتدارکے سہارے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے میں کامیاب رہیں گے اور مسلمان ان کی شرطوں پرجینا شروع کردیں گے توہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ مسلمان نہ توکبھی جھکا ہے اورنہ کبھی جھکے گا، وہ محبت سے توجھک سکتاہے لیکن طاقت کے زورسے اسے کبھی جھکایانہیں جاسکتاہے ، کسی حکومت نے نہیں بلکہ ملک کے آئین نے اسے اختیارات دیئے ہیں اور جب تک یہ آئین باقی ہے مسلمان اس ملک کا محب وطن شہری بن کر ہی زندہ رہے گاوہ دوسرے درجہ کا شہری بنناہرگزگوارہ نہیں کرسکتا۔ مولانا مدنی نے اخیرمیں کہاکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے بڑے ظالم آئے اورمٹ گئے، ظلم کی عمرزیادہ نہیں ہوتی جب ظلم اپنی انتہاکو پہنچ جاتاہے توسمجھ لینا چاہئے کہ صبح روشن قریب ہے ، ایک دن ایساضرورآئے گاجب ظلم کرنے والے کے گلے میں زنجیرہوگی اوریہ ملک پھر سے انصاف ومحبت ،بھائی چارہ کاگہوارہ بنے گا۔ اجلاس میں صدرجمعیۃکے علاوہ،نائب صدرمولانا سیداسجدمدنی ،ناظم عمومی مفتی سید معصوثاقب،مفتی غیاث الدین رحمانی حیدرآباد، مولانا بدراحمد مجببی پٹنہ، مولانا عبداللہ ناصربنارس،قاری شمس الدین کلکتہ، مفتی اشفاق احمد اعظم گڑھ، مولانا فضل الرحمن قاسمی، مفتی عبدالقیوم منصوری گجرات، مولانا حلیم اللہ قاسمی ممبئی، مفتی اشرف عباس قاسمی دیوبند، مولانا سیداشہد رشیدی مرادآباد، مولانا مشتاق احمدعنفرآسام، فضیل احمد ایوبی ایڈوکیٹ دہلی، کے علاوہ بطورمدعوئین خصوصی مولانا محمد راشد راجستھان، مولانا محمد مسلم قاسمی دہلی، مولانا محمد احمد بھوپال، مولانا عبدالقیوم مالیگاؤں، مفتی حبیب اللہ جودھپور، حافظ عبدالقدوس ہادی کانپوروغیرہ شریک ہوئے۔