ترجمان وزارت خارجہ : جوہری حقوق سے دست بردار نہيں ہوں گے ، ابھی ساری توجہ جنگ کے خاتمے پر
25
M.U.H
18/05/2026
تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نے کہا ہے کہ ہماری طرف سے 14 مادوں پر مشتمل تجویز پیش کئے جانے کے بعد، امریکی فریق نے اپنے تحفظات پیش کیےجس کے جواب میں ہم نے بھی اپنے تحفظات پیش کیے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے پریس کانفرنس میں ارنا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے، امریکہ کی جانب سے ایران کی تجویز کو مسترد کئے جانے کے عام اعلان کے باوجود ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکیوں کی جانب سے اصلاح شدہ نکات اور تحفظات ملا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان "اسماعیل بقائی" نے منگل کے روز منعقد پریس کانفرنس میں جمہوری اسلامی ایران کے سابق وزیر خارجہ شہید امیر عبداللہیان کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کے نقطہ نظر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جس کی اہمیت نہ صرف ایران، عمان اور خطے کے ممالک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اس آبی گزر گاہ کو محفوظ بنائے رکھنے کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کا گزر بہترین شکل میں اور مکمل حفاظت کے ساتھ ہونا چاہیے تاہم چونکہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی آبی پانی میں واقع ہے، اس لیے دونوں ساحلی ممالک خود کو اس بات کا پابند سمجھتے ہيں کہ تمام ملکوں کے بحری جہازوں کی اس راستے سےمحفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو جو واقعہ پیش آیا، وہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی کھلی قانون شکنی کا نتیجہ تھا۔ ایک ساحلی ملک کے طور پر جمہوری اسلامی ایران پر حملے کی وجہ سے ہم نے بین الاقوامی قانون کے مطابق اور اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے لیے کچھ اقدامات دیئے جو ہماری مجبوری تھی۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور ایران کے داخلی قوانین کے دائرے میں صحیح ہیں اور ہمارے ملک کی قانونی ذمہ داریوں کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ بھی ہیں ۔
ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تجاويز کے لین دین کا کام پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس سوال کے جواب میں کہ "کیا ایران یورینیم کی افزودگی میں 20 سال کے تعطل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟" کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جوہری امور سے متعلق موضوعات پر ہم پہلے ہی اپنے موقف کو واضح طور پر بیان کر چکے ہیں۔ اس وقت ہماری توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے، ان شرائط و خصوصیات کے ساتھ جن کی وضاحت میں مختلف مواقع پر کر چکا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری موضوعات میں ہم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہم "عدم پھیلاؤ معاہدے" کے تحت اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے تاہم اس وقت ہماری ساری توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے۔