سڑک پر نماز غلط ہے تو تمام مذہبی جلوسوں پر بھی پابندی لگائی جائے: اویسی
32
M.U.H
30/05/2026
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ عیدین اور رمضان جیسے مذہبی مواقع کے قریب آتے ہی جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اذان اور نماز کے معاملات کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان کسی بھی صورت میں نماز ترک نہیں کریں گے۔
عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جب بھی بقرعید یا رمضان آتا ہے تو کچھ لوگ نئے تنازعات کھڑے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اذان سے مسئلہ ہے۔ نماز سے مسئلہ ہے۔ آخر آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘
اویسی نے یاد دلایا کہ برطانوی دور میں علمائے کرام نے مساجد سے آزادی کی تحریک کی قیادت کی اور انگریزوں کے خلاف فتوے جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ فضل حق خیرآبادی اور دیگر ہزاروں علما نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن آج انہی مسلمانوں کو اذان اور نماز پر درس دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مذہبی جلوسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ سے دہلی تک یاتراؤں کے دوران سڑکیں بند کی جاتی ہیں اور بڑے بڑے خیمے لگائے جاتے ہیں مگر اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا۔
اویسی نے کہا کہ سڑک پر نماز روزانہ نہیں بلکہ صرف جمعہ یا عید کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’بھارت میں کیا ہر مذہب کے تہوار سڑکوں پر نہیں منائے جاتے؟ آپ کو وہ سب نظر نہیں آتے اور آپ ان کے معاملے میں خاموش رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے مسلمان نماز نہیں چھوڑیں گے۔ اویسی کے مطابق انہوں نے بعض نوجوانوں سے ملاقات کی جنہوں نے بتایا کہ ٹیلی ویژن پر نماز سے متعلق مباحث دیکھنے کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے مسجد میں نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تقاریر پر اعتراض نہیں ہوتا لیکن اذان اور نماز پر اعتراض کیا جاتا ہے۔
اویسی نے ہندو تہواروں کے دوران انڈوں۔ گوشت اور مرغی کی فروخت پر عائد پابندیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کیسا قانون ہے؟‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’آپ کی نفرت صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور یہ نفرت صاف ظاہر کرتی ہے کہ آپ اس مذہب کے ماننے والوں کو دبانا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں۔‘‘
ترکمان گیٹ۔ ملیانہ۔ ہاشم پورہ اور نیلی جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان سانحات کے باوجود مسلمان باقی رہے اور اپنے وطن میں قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’کوئی کہیں نہیں جا رہا۔ دوسری ہجرت نہیں ہوگی۔ اگر آپ ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس طاقت ہے۔ اگر ظالم بننا چاہتے ہیں تو بن جائیں۔ لیکن ہم یہاں سے جانے والے نہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔‘‘
اویسی نے مذہبی آزادی سے متعلق آئین ہند کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سڑک پر نماز ادا کرنا غلط ہے تو پھر تمام مذاہب کے جلوسوں اور تہواروں کے لیے بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ کہتے ہیں کہ کسی کے تہوار کے دوران گوشت کی دکانیں بند ہونی چاہئیں تو پھر رمضان کے تیس دنوں کے لیے شراب کی دکانیں بھی بند کی جائیں۔‘‘
اویسی نے کہا کہ آئین تنقید کی آزادی دیتا ہے لیکن بعض لوگ صرف اذان کی آواز اور لفظ ’’مسلمان‘‘ سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں۔
ان کا یہ بیان اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نماز منظم انداز میں ادا کی جانی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر مختلف شفٹوں میں بھی ادا کی جا سکتی ہے تاکہ عوامی نظم و ضبط برقرار رہے۔
اویسی نے نیٹ امتحان کے پرچہ لیک معاملے پر میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 22 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے لیکن ٹی وی چینل طلبہ کے مسائل کے بجائے مسلمانوں۔ اذان اور گوشت کے معاملات پر بحث کرنے میں مصروف رہے۔
انہوں نے ایک نیوز اینکر کی جانب سے سی بی ایس ای کی جوابی کاپیوں کے تبادلے پر سوال اٹھانے والے طالب علم کو ’’پاکستانی‘‘ قرار دینے پر بھی اعتراض کیا اور پوچھا کہ ’’کیا حکومت سے سوال کرنے والا ہر شخص پاکستانی ہو جاتا ہے؟ کیا مودی اب خدا بن گئے ہیں؟‘‘
اویسی نے مغربی ایشیا کی صورتحال کے باعث بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں لیکن ان مسائل پر بات کرنے کے بجائے مسلمانوں کو موضوع بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر روس سے 2022 سے درآمد کیا جانے والا سستا تیل بھارتی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچا رہا ہے تو اس کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر اویسی نے کہا کہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ انہوں نے تاریخی حکمرانوں اور خالی پڑے محلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طاقت عارضی ہوتی ہے اور حکومت کو ظلم سے باز آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ آج اقتدار میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔ انہیں تاریخ کے ان سنسان محلات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ ظلم نہ کریں۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔‘‘