فلسطین کے لئے ایک قابل اعتماد پارٹنر بنا رہے گا ہندوستان، دو ریاستی حل کی حمایت
17
M.U.H
14/07/2026
بھارت نے ایک بارپھرفلسطین کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کا قابلِ اعتماد شراکت داربنا رہے گا۔ برسلزمیں منعقدہ فلسطین ڈونرگروپ (پی ڈی جی) کے دوسرے وزارتی اجلاس میں بھارت نے دوریاستی حل (ٹواسٹیٹ سلوشن) اوراقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت کودہرایا۔ یورپی کمیشن اورفلسطینی اتھارٹی کے مشترکہ اہتمام میں ہونے والے اس اجلاس میں بھارت کی نمائندگی وزارتِ خارجہ کی سکریٹری (سی پی وی واوآئی اے) شری پریا رنگناتھن نے کی۔ اجلاس میں یورپی یونین کے رکن ممالک، فلسطینی اتھارٹی، بین الاقوامی شراکت داروں اورمختلف مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شری پریا رنگناتھن نے کہا کہ بھارت طویل عرصے سے فلسطینی عوام کا قابلِ اعتماد ساتھی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے لیے بھارت کی ترقیاتی امداد ضرورت اورمطالبے کی بنیاد پرفراہم کی جاتی ہے، جس کا بنیادی مقصد صحت، تعلیم، صلاحیت سازی اورپیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں کومضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت اس وقت فلسطین میں صحت کی سہولیات، خواتین کو بااختیار بنانے اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے سے متعلق کئی اہم منصوبوں پر کام کررہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے بحالی، صحت، تعلیم اورپیشہ ورانہ تربیت سے متعلق متعدد نئی ترقیاتی اسکیموں کا بھی اعلان کیا ہے۔
برسلزکے دورے کے دوران شری پریا رنگناتھن نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یواین آرڈبلیو اے) کے مشاورتی کمیشن کے آئندہ چیئرمین کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پرانہوں نے فلسطین میں ایجنسی کی انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے بھارت کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، بھارت فلسطینی عوام کی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک پرعزم اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے اورمستقبل میں بھی فلسطین کے ساتھ عملی تعاون جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے 7 جولائی کوانڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں بھی اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کے لیے دوریاستی حل کی اہمیت پرزوردیا تھا۔ انہوں نے انڈونیشیا کے صدرپرابووسوبیانتوکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بھارت اورانڈونیشیا عالمی امورپرباہمی تعاون کومزید فروغ دیں گے۔ اس موقع پردونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدوں پردستخط بھی کیے گئے، جن میں بھارت کی جانب سے انڈونیشیا کو برہموس سپرسونک کروزمیزائل سسٹم اوراستر ایم کے-1 فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے سے متعلق معاہدے بھی شامل ہیں۔