عرب و اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان: اسرائیل کی جارحانہ کارروائیاں جنگ بندی معاہدہ کو کمزور کر رہی ہیں
33
M.U.H
06/08/2026
تہران: قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے غزہ پٹی اور غرب اردن میں صیہونی حکومت کی جارحیت پر تشویش کا اظہار کیا۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کے اقدامات اور جارحانہ کارروائیاں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو کمزور کر رہی ہیں اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں کارروائیوں میں شدت کے باعث، دو ریاستی حل پر عمل در آمد کے امکانات بھی بے حد کم ہو گئے ہیں۔
ان آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے پر مجبور کرے اور بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
اس بیان میں فلسطینی سرزمین کے الحاق کی کسی بھی کوشش اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے منصوبوں کی شدید مخالفت پر بھی زور دیا گیا ہے اور ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کے منافی اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب صیہونی حکومت غزہ پٹی میں روزانہ جارحانہ کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے جس کی وجہ سے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز، مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔