آبنائے ہرمز میں نئے راستے کا تعین کے لیے ایران عمان سمجھوتے کے قریب ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
3
M.U.H
09/08/2026
تہران:سید عباس عراقچی نے یہ بات صدر ایران کی پریس کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ "موجودہ نقشوں کی بنیاد پر دونوں ممالک کی فوجی اور بحری افواج کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اور ان مذاکرات کے نتیجے میں نئے راستے کا تعین کیا جائے گا۔"
سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی راستہ طے کرنے کی غرض سے عمان کے ساتھ قانونی اور انتظامی معاملات پر مذاکرات جاری ہیں اور ہم معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کا خاتمہ بعض شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے اور امریکہ کی جانب سے اسلام آباد ڈکلریشن کی خلاف ورزی سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جانا بھی شامل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ "ماضی میں، ایک TSS یا راستہ تھا، لیکن اسلامی جمہوریہ کے نقطہ نظر سے، یہ راستہ اب جہازوں کی آمدورفت کے لیے قابل قبول نہیں ہے، اور ایک نئے TSS پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جس میں یقیناً وسیع تکنیکی اور قانونی پیچیدگیاں ہیں۔"
سید عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ "تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں کے پیش نظر، ہم فی الحال ایک عارضی روٹ کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کی فوجی اور بحری افواج کے درمیان موجودہ نقشوں کی بنیاد پر مذاکرات ہوئے ہیں جس کے نتائج کی روشنی میں نئے راستے کا تعین کیا جائے گا۔"
وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزی کے معاملات کی ایک ایک کرکے پیروی کی جانی چاہیے اور یہ امریکہ ہی تھا جس نے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی تھی۔
اسلامی جمہوریہ ایران مفاہمت کی یادداشت کے آرٹیکل 5 پر عمل درآمد کر رہا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر لوٹ آئے گی اور دو ہفتے کے دوران ٹریفک ساٹھ فی صد بحال بھی ہوگئی تھی لیکن امریکہ نے ہمارے انتباہ کے باوجود آبنائے ہرمز میں نیا راستہ بنانے اور ایران کی عملداری کمزور کرنے کی کوشش شروع کردی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ امریکہ کی جانب سے ایم او یو کی خلاف ورزی اور اپنی عملداری میں خلل ڈالنے کی کشی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔