پارلیمنٹ احاطہ میں امت شاہ کے خلاف اپوزیشن کا دھرنا و مظاہرہ جاری، پرینکا گاندھی نے کہا ’ڈیڈلاک جاری رہے گا‘
13
M.U.H
10/08/2026
اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں حاضر ہو کر طلبا پر ہوئی پولیس بربریت سے متعلق بیان کا مستقل مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے دونوں ہی ایوانوں میں آواز اٹھ رہی ہے اور ہنگامہ کی وجہ سے کارروائی رخنہ انداز بھی ہو رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈران پارلیمانی احاطہ میں بھی امت شاہ اور پی ایم مودی کے خلاف دھرنا و مظاہرہ کر رہے ہیں، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری رہا۔ پارلیمانی احاطہ میں ایک نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’جب تک وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں بیان نہیں دیں گے، تب تک ڈیڈلاک (تعطل) جاری ہی رہے گا۔‘‘
موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعطل مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک وزیر داخلہ طلبا پر بربریت اور رام مندر میں ہوئی چندہ چوری پر ایوان میں وضاحت نہیں دیتے، تب تک اپوزیشن کئی اہم بلوں پر بحث آگے نہیں بڑھنے دے گی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے اپوزیشن کے مطالبات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی بھی بل، جس میں ایف سی آر اے بل بھی شامل ہے، پر بحث سے پہلے امت شاہ کو پارلیمنٹ میں آکر دہلی کے طلبا کے خلاف ہوئی کارروائی پر بیان دینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ اپوزیشن کا واضح مطالبہ ہے اور ان کے بیان کے بغیر حکومت کو ان معاملات پر آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ایف سی آر اے بل کو لے کر اپوزیشن نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا ہے کہ پارٹی اس بل کو ایک بڑے طبقے کے خلاف اٹھائے گئے قدم کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ تبدیلیاں طبقے اور ملک کے مفادات کے خلاف ہیں اور اس سے تعلیم اور قومی ترقی میں تعاون کرنے والے اہم وسائل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ سکھ دیو بھگت نے آج میڈیا اہلکاروں کے سامنے عالمی یوم قبائل کے تناظر میں بھی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قبائلی برادری کو ’وَنواسی‘ کہہ کر اس کی شناخت، جدوجہد، تاریخی ورثے اور انفرادیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھگت نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر علامتی احتجاج درج کرا رہے ہیں اور امت شاہ کے ایوان میں آنے پر قبائلی شناخت سے متعلق سوال اٹھائیں گے۔ ایف سی آر اے بل پر انہوں نے انتظامی اخراجات کی حد 50 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کیے جانے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر کئی بل بدلے کی نیت سے لانے کا الزام بھی عائد کیا۔