وزیرخارجہ عراقچی: جب تک امریکی خلاف ورزیاں جاری ہیں اس وقت تک مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہيں ہے
8
M.U.H
10/08/2026
تہران :وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اتوار 9 اگست کو وزارت خارجہ کے سیاسی و بین الاقوامی مطالعات کے مرکز میں، 'وزارت خارجہ کی دستاویزات کے آئینے میں محرم و عاشورا' کے زیر عنوان منعقدہ نمائش کی افتتاحی تقریب کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ حال حاضر میں امریکا کے ساتھ مذاکرات نہيں ہورہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ثالثین کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن اس کو مذاکرات کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ بعض ثالث ممالک دوبارہ مذاکرات کے لئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب تک امریکا کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی خلاف ورزی بند نہیں ہوجاتی اور جو خلاف ورزیاں اس نے کی ہیں ان کی تلافی نہیں کرتا، اس وقت تک مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کئے جاسکتے۔
سید عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران کی شرائط ثالثین کے ذریعے امریکا کو بھیج دی گئی ہیں۔
انھوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں،عمان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئی کوریڈو کے بارے میں عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
سید عباس عراقچی نے بتایا کہ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہےاور کہا جاسکتا ہے کہ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں، آبنائے ہرمز میں پرانے راستوں کی جگہ نئے راستوں کا تعین کیا جائے گا اور ماہرین نے اس پر کام شروع کردیا ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ایران اور عمان کا یہ سمجھوتہ نتیجہ بخش ہوسکتا ہے لیکن آبنائے ہرمز کھولنے کی دوسری شرائط ہیں جو ثالثین کے توسط سے امریکا کو ارسال کی جاچکی ہيں۔