دہلی میں جہاں جہاں دلت اور مسلمان مضبوط، وہاں ایس آئی آر کے بعد حذف ہو رہے سب سے زیادہ نام!
4
M.U.H
02/09/2026
دہلی کی ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کے نام کٹنے والے ہیں۔ 31 اگست کو ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کے بعد جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 47 لاکھ 56 ہزار 722 ووٹرس کے نام شامل نہیں ہیں۔ دہلی میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 45 لاکھ 10 ہزار 299 رجسٹرڈ ووٹرس ہیں۔ یعنی تقریباً 3 میں سے ایک ووٹر کا نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہے۔ دہلی اسمبلی سیٹوں میں جہاں دلتوں اور مسلمانوں کا ووٹ زیادہ ہے، وہاں کافی تعداد میں ووٹرس ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہیں۔ خصوصاً ایس سی ریزرو سیٹوں پر نام نہیں ملنے والے ووٹرس کی تعداد زیادہ ہے۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سبھی لوگوں کے نام حتمی طور پر ووٹر لسٹ سے کٹ گئے ہیں۔ ڈرافٹ رول میں 97 لاکھ 53 ہزار 577 ووٹرس کے نام شامل کیے گئے ہیں، جن لوگوں کے نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں، انہیں 31 اگست سے 30 ستمبر تک دعویٰ اور اعتراض داخل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ جانچ کے بعد صحیح ثابت ہونے والے نام حتمی لسٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ایس آئی آر کی فائنل ووٹر لسٹ 4 نومبر کو جاری ہونی ہے۔
ایس آئی آر 2026 کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق تغلق آباد اسمبلی سیٹ پر 100386 ووٹرس ہیں، لیکن ان میں سے 92033 انیومریشن فارم نہیں ملے۔ یعنی یہاں 47.8 فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے بعد اوکھلا میں 45.2 فیصدر ووٹرس ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہیں۔ بدرپور میں یہ اعداد و شمار 42.6 فیصد ہے۔ مہرولی میں 41 فیصد ہے، پٹپڑ گنج میں 40.1 فیصد اور براڑی میں 39.2 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ دیولی میں 37.3 فیصد، چھترپور میں 37.2 فیصد، ریٹھالہ میں 36.4 فیصد، وکاس پوری میں 34.7 فیصد اور بادلی میں 34.5 فیصد ووٹر ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں۔ کراول نگر میں 32.8 فیصد، کراری میں 31 فیصد، نانگلوئی جاٹ میں 29.8 فیصد اور پالم میں 28.2 فیصد ووٹرس لسٹ سے باہر ہیں۔ منڈکا میں 25.5 فیصد، مٹیالہ میں 24.1 فیصد، نریلا میں 23.8 فیصد، بوانا میں 23.7 فیصد اور اتم نگر میں 22.2 فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔
مسلم اکثریتی سیٹوں میں کچھ سیٹوں پر دہلی کے اوسط 32.7 فیصد سے زیادہ ووٹرس ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں۔ سب سے زیادہ کمی اوکھلا سیٹ پر ہے، جہاں 45.3 فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے بعد چاندنی چوک میں 38.9 فیصد ووٹرس کا نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ ان دونوں سیٹوں پر ووٹرس کے باہر ہونے کی تعداد دہلی کے اوسط سے زیادہ ہے۔ بلی ماران میں 32.6 فیصد، مصطفیٰ آباد میں 28 فیصد، بابر پور میں 27 فیصد، مٹیا محل میں 34.5 فیصد اور سیلم پور میں 23.3 فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ یعنی اوکھلا اور چاندنی چوک کو چھوڑ کر ان 5 مسلم اکثریتی سیٹوں پر ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہوئے ووٹرس کا اعداد و شمار دہلی کے اوسط سے کم ہے۔
دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں میں سے 12 سیٹیں درج فہرست ذات (ایس سی) کے لیے ریزرو ہیں۔ ان میں منگول پوری، مادی پور، سیما پوری، تری لوک پوری، سلطان پور، ماجرا، گوکل پوری، بوانا، پٹیل نگر، کونڈلی، امبیڈکر نگر، دیولی اور قرول باغ شامل ہیں۔ ان سیٹوں پر ایس سی برادری کے امیدوار انتخاب لڑتے ہیں۔ ان 12 ریزرو سیٹوں میں منگلول پوری میں 21.2 فیصد، مادی پور میں 23.6 فیصد، سیما پوری میں 32.5 فیصد، تری لوک پوری میں 33.5 فیصد، سلطان پور ماجرا میں 31.1 فیصد اور گوکل پوری میں 25.7 فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہیں۔ بوانا میں یہ اعداد و شمار 32.7 فیصد ہے۔ پٹیل نگر میں 40.8 فیصد، کونڈلی میں 37.5 فیصد، امبیڈکر نگر میں 39.5 فیصد اور قرول باغ میں 40.4 فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔
ان نشستوں کے علاوہ دہلی میں ایسی سیٹیں بھی ہیں، جہاں ایس سی برادری کے ووٹرس کی تعداد تقریباً 25 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔ ان میں 12 ریزرو سیٹوں کے علاوہ آدرش نگر، شاہدرہ، تغلق آباد، راجندر نگر، چاندنی چوک، بجواسن سمیت 18 سیٹیں شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق آدرش نگر میں 30.1 فیصد، شاہدرہ 33.1 فیصد، تغلق آباد میں 47.8 فیصد اور راجندر نگر میں 20.9 فیصد ووٹرس ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہیں۔ بجواسن میں یہ اعداد وشمار 31.7 فیصد اور چاندنی چوک میں 38.8 فیصد ہے۔ یعنی جن سیٹوں پر دلت ووٹرس کی تعداد زیادہ ہے، وہاں بھی کئی سیٹوں پر ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہوئے ووٹرس کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ حالانکہ ان ناموں کا حتمی طور پر حذف کیا جانا بھی طے نہیں ہے۔ جن لوگوں کے نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں، وہ 30 ستمبر تک دعوی اور اعتراض داخل کرسکتے ہیں۔
راجدھانی دہلی میں ایس آئی آر کے تحت تقریباً دیڑھ ماہ تک گھر گھر جا کر ووٹرس کا ویری فکیشن کیا گیا۔ کل 14510299 رجسٹرڈ ووٹرس میں سے 67.2 فیصد کے انیومریشن فارم جمع اور ڈیجیٹلائز ہوئے۔ یعنی تقریباً 97.5 لاکھ ووٹرس کا ریکارڈ ویری فکیشن پروسیس میں مل گیا۔ باقی 32.8 فیصد یعنی 47.5 لاکھ سے زیادہ ووٹرس کو ’اے ایس ڈی ڈی او‘ کیٹگری میں رکھا گیا۔ اس میں ’اے‘ کا مطلب ابسینٹ (غیر حاضر)۔ ’ایس‘ کا مطلب شفٹیڈ یعنی دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔ ’ڈی‘ کا مطلب ڈیڈ (موت ہوچکی ہے) اور آخری ’ڈی‘ کا مطلب ڈپلیکیٹ ہے۔ جبکہ ’او‘ کا مطلب دیگر ہے۔ اس لیے 47.56 لاکھ نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اتنے لوگون کو متوفی یا فرضی قرار دیا گیا ہے۔ سیٹوں کے حساب سے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ مسلم اور دلت اکثریتی علاقوں میں ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہوئے ووٹرس کا فیصد تناسب کافی زیادہ ہے، لیکن اسے حتمی طور پر ووٹ کٹنا نہیں کہا جاسکتا ہے۔ 30 ستمبر جانچ کے بعد فائنل لسٹ میں نام شامل کیے جاسکتے ہیں اور ایس آئی آر کی فائنل لسٹ 4 نومبر کو جاری کی جائے گی۔