دہلی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نابالغ بیوی سے جنسی تعلق پر مسلم پرسنل لا کے تحت پوکسو سے استثنیٰ نہیں
4
M.U.H
27/09/2026
دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تحت شادی کو درست مانے جانے کی دلیل دے کر 18 سال سے کم عمر بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات کے معاملے میں پوکسو قانون کے تحت قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس سنجیو نرولا کی سربراہی والی بنچ نے ایک معاملے میں کہا کہ ذاتی قانون پوکسو ایکٹ کے تحت بچوں کو حاصل قانونی تحفظ کو ختم نہیں کر سکتا۔
یہ معاملہ ایک 28 سالہ شخص اور 16 سال 3 ماہ کی لڑکی سے متعلق ہے۔ دونوں کی شادی ان کے اہل خانہ کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد لڑکی حاملہ ہوگئی۔ جب وہ طبی معائنے کے لیے سرکاری اسپتال پہنچی تو ڈاکٹروں کو اس کی کم عمری کا علم ہوا۔ اس کے بعد اسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی اور شوہر کے خلاف پوکسو ایکٹ سمیت متعلقہ فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
مقدمہ ختم کرنے کے لیے دائر درخواست میں دلیل دی گئی کہ مسلم پرسنل لا کے مطابق بلوغت حاصل کرنے کے بعد لڑکی شادی کی اہل سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے اگر نکاح درست ہے تو اس کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان قائم ہونے والے جسمانی تعلقات کو جرم نہیں قرار دیا جانا چاہیے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ لڑکی اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور اس نے شوہر کی ضمانت کی حمایت بھی کی تھی۔ عدالت کے سامنے مسلم پرسنل لا سے متعلق قانونی نکات بھی پیش کیے گئے۔
جسٹس سنجیو نرولا نے ذاتی قانون کی بنیاد پر فوجداری قانون سے استثنیٰ دینے کی دلیل کو قبول نہیں کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شادی کی ذاتی قانون کے تحت حیثیت اور اس شادی کے بعد نابالغ کے ساتھ جنسی تعلقات پر عائد فوجداری قانون کے اثرات دو الگ قانونی معاملات ہیں۔ عدالت کے مطابق، 18 سال سے کم عمر بچے کو پوکسو ایکٹ کے تحت خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس لیے مسلم پرسنل لا کے تحت نکاح کو درست قرار دینے کی دلیل پوکسو ایکٹ کے تحت جرم سے خودکار استثنیٰ فراہم نہیں کرتی۔
دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ذاتی قانون کے تحت شادی کی حیثیت کا معاملہ اپنی جگہ ہے، لیکن کسی دوسرے قانون کے تحت ممنوع قرار دیے گئے عمل پر صرف شادی کا حوالہ دے کر قانونی تحفظ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔عدالت کا یہ مؤقف بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ دینے والے پوکسو قانون اور ذاتی قوانین کے درمیان قانونی دائرہ کار کے فرق کو واضح کرتا ہے۔