سید عباس عراقچی: ہم کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں مضبوطی سے ڈٹے رہیں گے، خواہ وہ قیامت خیز جنگ کا سبب ہی کیوں نہ بنے
4
M.U.H
27/09/2026
نیویارک : وزیر خارجہ نے کہا: ہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہیں، اگر امریکا کی جانب سے خاص اقدامات انجام دیے جائیں اور یہ نئے مسائل نہیں ہیں اور نہ ہی خلا سے آئے ہیں۔ یہ ہمارے حقوق ہیں جن کے احترام کا ہم مطالبہ کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا: ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے وہ اثاثے جو غیر قانونی طور پر منجمد کر دیے گئے ہیں، آزاد ہوں اور ہم اپنا تیل فروخت کر سکیں۔ اس لیے ہم خاص اقدامات چاہتے ہیں جن کے انجام دینے کا امریکا نے گزشتہ معاہدوں میں وعدہ کیا تھا۔
وزیر خارجہ نے اس سوال کے جواب میں کہ امریکا کی جانب سے اثاثوں کی آزادی اور پابندیوں کے خاتمے کی مخالفت کے پیش نظر، اس مرحلے پر امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا امکان ہے یا ڈپلومیسی ناکام ہو چکی ہے؟ کہا: یہ سرمایہ ہمارا اپنا ہے، دوسروں کا نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اس سوال کے جواب میں کہ ٹرمپ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کہا: ہم جنگ کے دوبارہ آغاز کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے زور دیا: ہم کسی بھی نئی جارحیت کے مقابلے میں مضبوطی سے ڈٹے رہیں گے، خواہ وہ قیامت خیز جنگ کا سبب ہی کیوں نہ بنے لیکن اس کے ساتھ ہی سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہیں، انتخاب صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔
اس انٹرویو کے ایک اور حصے میں این بی سی کے میزبان نے 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی اور اس مقدار میں افزودہ مواد کو رکھنے کی وجہ کے بارے میں سید عباس عراقچی سے سوال کیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 60 فیصد تک افزودگی غیر قانونی نہیں ہے اور یہ اب بھی این پی ٹی معاہدے اور ہمارے پرامن جوہری پروگرام کے دائرے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس سطح کی افزودگی طبی مقاصد اور دیگر پرامن اہداف کے لیے کرتا ہے۔