جنوبی لبنان کو اسرائیل سے ملحق کر دیا جائے،صیہونی وزیر کی گستاخی
4
M.U.H
27/09/2026
صیہونی وزیر خزانہ بزالل اسموتریچ نے جنوبی لبنان کو مقبوضہ فلسطین کے ساتھ ملحق کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس کا یہ بیان غاصب صیہونی رژیم کے ان توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے جو "گریٹر اسرائیل" نامی منصوبے کے تحت آگے بڑھائے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بزالل اسموتریچ نے کہا: "جنوبی لبنان اور غزہ کی پٹی کا وہ علاقہ جہاں اسرائیلی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے اسرائیل سے ملحق کیا جانا بہت ضروری ہے۔" اس انتہاپسند صیہونی وزیر نے اس سے پہلے مغربی کنارے میں فلسطین اتھارٹی کی انتظامیہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا: "فلسطین اتھارٹی کو ختم کر دینا چاہیے اور مغربی کنارے میں جنگ کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔" اس نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ مستقبل قریب میں فلسطینیوں کے پاس موجود تمام ہتھیار اسرائیل کے قبضے میں آ جائیں گے۔ اس انتہاپسند صیہونی وزیر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود صیہونی فوج کی فوجی جارحیت بدستور جاری ہے۔ لبنانی ذرائع کے مطابق صیہونی فوجیوں نے جنوبی لبنان کے شہر الخیام میں بڑے پیمانے پر رہائشی عمارات کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف صیہونی فوج کا توپخانہ النبطیہ شہر کے قریب واقع قصبے میفدون کو کئی روز سے مسلسل گولہ باری کا نشانہ بنا رہا ہے۔