شنکراچاریہ کے خلاف توہین آمیز زبان ’لفظی تشدد‘ ہے: اکھلیش یادو
16
M.U.H
14/02/2026
لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ہفتہ کو کہا کہ شنکراچاریہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرنا ’’لفظی تشدد‘‘ اور گناہ ہے۔ اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، پہن لے کوئی جیسے بھی ‘چولے’، پر اس کی وانی پول کھولے۔ پرم پوجیہ شنکراچاریہ جی کے بارے میں نہایت توہین آمیز الفاظ کہنا لفظی تشدد بھی ہے اور گناہ بھی۔ ایسا کہنے والے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی گناہ لگے گا جنہوں نے خوشامد میں میزیں تھپتھپائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان اسمبلی ایوان کے باہر عوام کا سامنا کریں گے تو عوام سڑک پر ان کا ایوان لگا دے گی۔ اکھلیش یادو کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے اسمبلی میں کہا تھا کہ ہر کوئی ’’شنکراچاریہ‘‘ کا لقب استعمال نہیں کر سکتا اور تمام پروگراموں کے دوران مذہبی وقار اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھی جانی چاہیے۔
سابق وزیر اعلیٰ یادو نے کہا، جو مہاکمبھ میں ہونے والی اموات کے صحیح اعداد و شمار نہیں بتاتے، معاوضے میں بھی بدعنوانی نکال لیتے ہیں؛ جن تک معاوضہ نہیں پہنچا، اس کا حساب نہیں دیتے؛ اپنے خلاف درج مقدمات ختم کروا لیتے ہیں؛ ایسے لوگ کسی اور کے ‘دھرم پد’ پر سوال اٹھانے کا اخلاقی حق نہیں رکھتے۔
یادو نے مزید کہا، اپنے بیان میں انہوں نے ‘قانون کی حکمرانی’ کہہ دیا۔ جیسے ہی ان کی توجہ جائے گی، کیا وہ ‘وِدھی کی حکمرانی’ کہنے کے لیے دوبارہ ایوان بلائیں گے یا ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ‘لڑکھڑاتا پرایاشچت’ کریں گے؟ جب انسان نہیں بلکہ غرور بولتا ہے تو یہی ہوتا ہے۔ غرور، سنسکار کو وکار میں بدل دیتا ہے۔ وہ شخص معاشرے میں عزت کھو دیتا ہے، جس کے بارے میں کہاوت ہے – ‘جب منہ کھولا، تب برا بولا۔
سماجوادی پارٹی کے رہنما نے کہا، ہاتا نہیں بھاتا’ کا یہ پھیلا ہوا روپ ہے۔ جس سماج کے خلاف انہوں نے ہمیشہ نفرت کی سیاست کی ہے، اسے مذہب کے معاملے میں بھی ذلیل و مغلوب کرنے کا یہ ان کا غرور ہے۔ اگر چاہیں تو متنازع فلم کا نام بدلے بغیر ہی ریلیز کر دیں اور اسے ٹیکس فری بھی کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے انتخابات میں سماج ایک ایک ووٹ ان کے خلاف ڈال کر اپنے اپمان اور ریاستی صدر کے نوٹس کا جواب دے گا، ان کی حکومت ہٹا کر نئی حکومت بنائے گا اور پھر مل جل کر بے دھڑک دال-باٹی کھائے گا۔ یادو نے کہا، شنکراچاریہ جی پر دیا گیا غیر شائستہ بیان ایوان میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا ہے۔ اسے قابلِ مذمت کہیں تو لفظ ‘قابلِ مذمت’ بھی خود کو قابلِ مذمت محسوس کرے گا۔
پریاگ راج میں ماگھ میلے کے دوران ضلعی انتظامیہ اور سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے درمیان ہوئے تنازع کے تقریباً ایک ماہ بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ہر کوئی ’’شنکراچاریہ‘‘ کا لقب استعمال نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تقریبات میں مذہبی وقار اور قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ آدتیہ ناتھ نے کہا، ہر کوئی اپنے نام کے آگے شنکراچاریہ نہیں لکھ سکتا۔ ہر کوئی کسی ‘پیٹھ’ کا ‘آچاریہ’ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور ماحول خراب نہیں کر سکتا۔ سب کو ایک حد میں رہنا پڑتا ہے۔