اویسی نے "حجاب میں ملبوس خاتون بطور وزیر اعظم" کے ریمارکس کا اعادہ کیا
19
M.U.H
14/02/2026
نئی دہلی:آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ہفتہ کے روز اپنے اس بیان کا دفاع کیا کہ حجاب پہننے والی ایک خاتون ہندوستان کی وزیرِ اعظم بن سکتی ہے۔ انہوں نے اسے اپنا “خواب” قرار دیا اور کہا کہ یہ ملک کی شمولیت اور کثرتیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک انٹرویو میں اویسی نے کہا کہ اس طرح کے تصور میں کوئی برائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا كہ اس میں غلط کیا ہے؟ میں ملک کی شمولیت اور کثرتیت کو فروغ دے رہا ہوں… یہ میرا خواب ہے کہ حجاب پہننے والی خاتون ہندوستان کی وزیرِ اعظم بنے۔
اس سال کے آغاز میں، مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے دوران سولاپور میں انتخابی مہم کے وقت اویسی نے کہا تھا کہ ایک دن حجاب پہننے والی خاتون وزیرِ اعظم بنے گی۔ ان کے اس بیان پر مہاراشٹر میں سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا تھا اور اس پر تنقید بھی ہوئی تھی۔
اویسی کے بیان کے جواب میں مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا تھا کہ بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کا میئر “مہایوتی سے ہوگا، ہندو ہوگا اور مراٹھی ہوگا”۔ یہ بیان انہوں نے ورلی میں بی ایم سی انتخابات کی مہم کے دوران ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیا تھا۔
مرشدآباد میں بابری مسجد کے معاملے پر اویسی نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے نزدیک سپریم کورٹ آف انڈیا کا فیصلہ غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب سنبھل، کاشی اور متھرا جیسے مقامات پر بھی تنازعات اٹھائے جا رہے ہیں، اور سابق چیف جسٹس جے ایس ورما کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ سپریم کورٹ سب سے اعلیٰ ہے، مگر ناقابلِ خطا نہیں۔
اویسی نے کہاكہ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تھا… اب سنبھل، کاشی، متھرا اور مدھیہ پردیش میں بھی معاملے کھولے جا رہے ہیں… جسٹس جے ایس ورما نے بالکل درست کہا تھا کہ سپریم کورٹ سپریم ہے مگر ناقابلِ خطا نہیں۔ اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بابری مسجد سے متعلق “قیامت” والے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ کم از کم وزیرِ اعلیٰ کو ایک اردو لفظ استعمال کرنا پڑا، اور سوال کیا کہ “قیامت” کا ہندی لفظ کیا ہوگا۔
انہوں نے کہا كہ کم از کم انہیں ایک اردو لفظ بولنا پڑا، ‘قیامت’ کا ہندی لفظ کیا ہوگا؟ ان سے پوچھ لیجیے۔