اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مجرم ہے ،اس کو سزا ملنی چاہیے : مولانا کلب جواد نقوی
6
M.U.H
13/03/2026
عالمی یوم قدس کے موقع پر نماز جمعۃ الوداع کے بعد آصفی مسجد میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا،بڑی تعداد میں مردوزن نے شرکت کی
لکھنؤ ۱۳ مارچ : ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو’عالمی یوم قدس‘کے موقع پر مجلس علمائے ہند کی جانب سے فلسطین کی آزادی ،قبلۂ اول کی بازیابی ،غزہ ،لبنان اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسرائیل و امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نماز جمعہ کے بعد مولاناکلب جوادنقوی کی رہنمائی میں آصفی مسجد میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔اول مولانا کلب جوادنقوی کی اقتدار میں نماز اداکی گئی ،اس کے بعد نمازی بڑی تعداد میں احتجاج کرتے ہوئے بڑے امام باڑے کے چبوترے پر جمع ہوئے ۔اس دوران مظاہرین نے فلسطین کی آزادی اور قبلۂ اول کی بازیابی کامطالبہ کیا۔مظاہرین نے آیت اللہ خامنہ ای کی مظلومانہ شہادت کو یاد کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کے خلاف ’مردہ باد‘ کے نعرے لگائے ۔مظاہرین نے مشترکہ طورپر ایران کے نو منتخب رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدید عہد بھی کیا۔مظاہرے کے اختتام پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی تصاویر کو نذرآتش کرکے مظاہرین نے اپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔مظاہرے میں بڑی تعداد میں مومنین ومومنات نے شرکت کی
مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری امام جمعہ مولاناکلب جوادنقوی نے کہاکہ اسرائیل نے غزہ اور فلسطین کے عوام پر جتنا ظلم کیااس کی نظیر اس صدی میں نہیں ملے گی ۔اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مجرم ہے مگر افسوس دنیا خاموش تماشائی ہے ۔مولانانے کہاکہ اسرائیل اور امریکہ نے ہمیشہ دہشت گردی کو فروغ دیا۔امریکہ نے ایران میں جس طرح مناب کے ایک اسکول پر حملہ کرکے سینکڑوں بچیوں کو شہید کیااس سے معلوم ہوتاہے کہ حقوق نسواں کے نعرے بلند کرنے والی یہ تمام حکومتیںکھلا فریب دیتی ہیں ۔مولانانے کہاکہ افسوس ہمارے ملک بھارت نے بھی معصوم بچیوں کے اسکول پر ہوئے حملے کی مذمت نہیں کی ۔مولانانے کہاکہ ہمارا سر شرم سے جھک گیاکیونکہ ہندوستانی حکومت نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ کی شہادت پر تعزیت تک پیش نہیں کی ۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کو یاد رکھناچاہے کہ امریکہ اور اسرائیل کبھی کسی کے سچے دوست نہیں ہوسکتے ۔یہ انسانیت کے مجرم اور قاتل ہیں۔مولانانے کہاکہ ایران نے مسلمان ملکوں میں امریکی اڈوں اور فوجی مراکز پر حملہ کیاہے ۔یہ مسلمان حکومتیں نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی غلام حکومتیں ہیںجنہوں نے ہمیشہ امت مسلمہ کے مفاد کے خلاف کام کیا ۔لیکن عرب عوام اب بیدار ہوچکے ہیں اور بہت جلد عرب ملکوں میں انقلاب رونما ہوگا۔مولانانے کہ ٹرمپ نے جنگ تو شروع کردی مگر اب فرار کے لئے راستہ نہیں مل رہاہے۔مولانانے کہاکہ ایران کی قوم کربلا کی پیروہے ،اس لئے وہ کبھی ظالموں کے آگے سر نہیں جھکاسکتی ۔انہوں نے کہا کہ ایران نے پوری دنیامیں کربلا کو متعارف کروایاہے ۔انہوں نے کہاکہہ ہم دعاکرتے ہیں یوم قدس کے موقع پر یہ آخری احتجاج ہواور آئندہ نماز جمعۃ الوداع بیت المقدس میں اداکی جائے ۔
مولانا سعیدالحسن نقوی نے کہاکہ امام خمینیؒ نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد یہ اعلان کیاتھاکہ فلسطین کی آزادی اور قبلۂ اول کی بازیای کے لئے ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو ’یوم قدس ‘ کے طورپر منایاجائے ۔آج ہم اسی لئے یہاں احتجاج کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔مولانانے کہاکہ کل تک جو لوگ مظلوم فلسطینیوں پر حملہ کررہے تھے آج وہ چوہوں کی طرح بنکروں میں چھپے ہوئے ہیں ۔فلسطینی تو ہمیشہ میدان میں رہے ۔انہوں نے بارود کا مقابلہ اینٹوں اور پتھروں سے کیا۔لیکن یہ مظلوموں پر ظلم کرنے والے آج بنکروں میں دُبکے ہوئے ہیں ۔مولانانے کہا کہ شہید کا خون رائیگاں نہیں جاتارہبر انقلاب اور قدس کے شہداکا خون رنگ لارہاہے ۔
مولانا علی عباس خان نے کہاکہ شہید کی طاقت شہادت کے بعد مزید بڑھ جاتی ہے ،اس حقیقت کا اندازہ دشمن کو نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ رہبر انقلاب کی شہادت پر ہرانسان نے آنسوبہائے کیونکہ رہبر انقلاب کی شخصیت ایران تک محدود نہیں تھی ۔مولانانے کہ ہمیں شہداء سے سبق لیناچاہیے کہ کس طرح انہوں نے ظلم کے خلاف مقاومت کی اور انسانیت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔مولانانے کہاکہ اب وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا میں انصاف کا پرچم لہرائے گا۔انہوں نے کہاکہ قبلۂ اول پر ہمار اپہلا حق ہے جس سے ہم کبھی دست بردار نہیں ہوسکتے یہی اعلان امام خمینیؒ کا تھااور اسی راہ میں آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی شہادت پیش کی ۔
مولانا مشاہد عالم رضوی نے کہاکہ یوم قدس دراصل مظلوموں اور کمزورںکا دن ہے ۔آج کا دن مظلوم فلسطینیوں کے لئے اور غزہ کے معصوم بچوں اور بہادر مائوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ہے۔انہوں نےکہاکہ مغربی طاقتوں کے چہرے پر پڑاہواامن کا نقاب اتر گیاہے ۔یہ نقاب آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ظالموں کے چہرے سے نوچ دیا ۔یہ لوگ مذاکرات کے بہانے فریب دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ حملہ ایران اور آیت اللہ خامنہ ای پر نہی بلکہ انسانیت پر تھا۔دنیا میں ایک انسان ایسانہیں ہے جو مظلوموں کے لئے بولنے کی جرأت کرسکے ۔تنہا رہبر انقلاب اسلامی تھے جو مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے خلاف بولتے تھے ۔آج دنیا کے بڑے بڑے لیڈر اپیسٹین فائلز کے خوف سے چپ ہیں کیونکہ وہ انسانیت کے مجرم ہیں ۔مولانانے کہاکہ امریکہ اور اسرائیل کو شکست ہوچکی ہے اور اب وہ جنگ بندی کے لئے فریاد کررہے ہیں ۔
مولانا فیض عباس مشہدی نے کہاکہ رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد دنیا دو خیموں میں بٹ گئی ہے ۔ایک خیمہ ظالموں کے ساتھ اور دوسر ا خیمہ مظلوموں کے ساتھ ہے ۔انہوں نے کہاکہ اما م حسینؑ نے یزید سے کہاتھاکہ مجھ جیساتجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا‘،یہی نعرہ آج رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای نے بلند کیاتھا۔مولانانے کہاکہ امریکہ اور اسرائیل مظلوم اور معصوم بچوں اور بچیوں کے قاتل ہیں ۔ایران نے واضح الفاظ میں کہاہے کہ ہم استعماری طاقتوں کی غلامی برداشت نہیں کرسکتے ۔ڈاکٹر حیدر مہدی نے کہاکہ شہید کبھی مرتانہیں بلکہ وہ ہمیشہ زندہ رہتاہے ۔دنیا میں شہیدوں کی یاد منائی جاتی ہے ظالموں اور قاتلوں کی نہیں ۔دنیا آیت اللہ خامنہ ای کو ہمیشہ یاد رکھے گی نتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کو نہیں ۔
احتجاج میں مولانا سید کلب جوادنقوی ،مولانا علی عباس خان ،مولاناسعیدالحسن نقوی،مولانا شاہ نواز حیدر ،مولانا نظر عباس ،مولانا فیض عباس مشہدی،مولانا ابوالفضل عابدی ،مولانا وصی عابدی ،مولانا مشاہد عالم رضوی ،مولانا فیروز حسین ،مولانا شباہت حسین ،مولانا زوار حسین ،ڈاکٹر حیدر مہدی ،مولانا منظر عباس شفیعی ،مولانا تہذیب الحسن اورمولانا حسنین باقری موجودرہے ۔نظامت کے فرائض عادل فراز نقوی نے انجام دئیے ۔مظاہرے میں ’امریکہ اور اسرائیل مردہ باد‘ کے ساتھ مسلم حکومتوں کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے ۔ساتھ ہی ایران کی حمایت اور رہبر انقلاب آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لئے بھی نعرے بلند ہوئے ۔مولاناکلب جوادنقوی نے اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ان شاءاللہ 5 اپریل اتوار کوشہید آیت اللہ خامنہ ای قدس سرّہ کی مجلس چہلم بڑے امام باڑے میں منعقد ہوگی ،جو لکھنؤ کے تمام مومنین ، اداروں ،انجمن ہائی ماتمی اور علماء کی طرف سے ہوگی ۔