امریکا کا فضا میں ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ عراق میں گر کر تباہ
6
M.U.H
13/03/2026
امریکی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک فضائی ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ "گر کر تباہ ہو گیا" ہے۔ امریکا کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک کے سی ۔135 فضائی ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس بیان کے مطابق، یہ واقعہ ایران کے خلاف نام نہاد آپریشن "ایپک فیوری" کے دوران پیش آیا۔
سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے میں دو طیارے ملوث تھے، جن میں سے ایک مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا جبکہ دوسرا بحفاظت لینڈ کر گیا۔ ادھر، سی بی ایس نیوز کے ایک نامہ نگار نے لکھا ہے کہ دوسرے ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا لیکن وہ بحفاظت اسرائیل میں اتر گیا۔ سینٹ کوم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ نہ تو دشمن کی آگ کا نتیجہ ہے اور نہ ہی فرینڈلی فائر کا، اور مزید کہا کہ اس طیارے کے عملے کو تلاش کرنے کے لیئے تلاشی اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی فوج عام طور پر ایران کے ساتھ جنگ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی خبروں کو عوامی رائے عامہ پر قابو پانے کے لیے کنٹرول شدہ طریقے سے جاری کرتی ہے۔ عراقی صارفین کی ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ امریکی طیارے کو مزاحمتی گروپوں نے نشانہ بنایا ہے۔ سی بی ایس کے نامہ نگار نے لکھا ہے کہ گر کر تباہ ہونے والے ایندھن فراہم کرنے والے طیارے میں 6 عملہ موجود تھا۔
ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈ کوارٹر حضرت خاتم الانبیا(ص) کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی فوج کا ایک فضائی ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ مغربی عراق میں مزاحمتی گروہوں کے میزائل حملے کا نشانہ بنا اور گر کر تباہ ہو گیا، اور اس کا پورا عملہ ہلاک ہو گیا۔