اسرائیل نے معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام شقوں پر عملدرآمد نہیں کیا: حماس
5
M.U.H
03/05/2026
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے مرکزی رہنما عبدالرحمن شدید نے اعلان کیا ہے کہ ثالثوں کی کوششوں کے جواب اور ان کے خیرمقدم میں حماس و مزاحمتی گروہوں کا ردعمل ذمہ دارانہ و لچکدار ہے۔ عبد الرحمن شدید نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لئے کوئی نئی پیشگی شرائط نہیں لیکن اگر اسرائیل معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کرے تو تب ہی دوسرا مرحلہ شروع ہو گا۔ حماس کے مرکزی رہنما نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے برعکس قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے نیز رفح کراسنگ کے ذریعے علاج معالجے کے لئے زخمیوں کو باہر جانے دینے کی شقوں کی پابندی بھی نہیں کی۔
حماس کے رہنما نے مزاحمتی گروہوں کے اسلحے کی حفاظت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ہتھیار، فلسطینی عوام کا ناقابل تنسیخ حق ہیں جسے، قتل و غارت و محاصرے کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزاحمتی گروہوں کے ہتھیاروں کو منظم، جائز اور قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام، دشمن کے جرائم کے خلاف اپنے دفاع کے لئے انہیں استعمال کریں! اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غزہ کو ایک "خاموش نسل کشی" کا سامنا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام؛ بھوک، محاصرے اور 20 لاکھ انسانوں کو ان کے کم از کم حقوق سے بھی محروم کر دینے کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے!