’تقسیم کے جھگڑے نے کھول دی پول ‘، رام مندر کے چندے کی چوری پر سماجوادی پارٹی کا بڑا الزام، چمپت رائے کو بنایا نشانہ
3
M.U.H
28/06/2026
ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کا معاملہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور سابق رکن اسمبلی پون پانڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بے ضابطگی کی اطلاع سب سے پہلے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو ملی تھی۔ پانڈے کے مطابق، اکھلیش یادو نے انہیں فون کرکے معاملے کی تصدیق کرنے کو کہا، جس کے بعد انہوں نے اپنی سطح پر جانچ کی اور معلوم ہوا کہ مندر سے نقد رقم اور زیورات کی چوری ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر اٹھا معاملہ
پون پانڈے نے کہا کہ جب اکھلیش یادو نے اس معاملے کی تصدیق کر لی تو انہوں نے اسے سوشل میڈیا پر اٹھایا، جس کے بعد یہ پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا۔ پانڈے کا کہنا ہے کہ چوری کا معاملہ دو وجوہات کی بنا پر سامنے آیا، پہلی بھگوان رام کی مرضی اور دوسری، مبینہ چوری میں شامل افراد کے درمیان مال کی تقسیم کو لے کر پیدا ہونے والا تنازع۔
چوری میں مبینہ طور پر شامل افراد میں اختلاف
سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے الزام لگایا کہ مندر میں چڑھاوے کی گنتی کرنے والے افراد آپس میں اس بات پر الجھ گئے کہ کون زیادہ رقم اور زیورات باہر لے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اسی جھگڑے کے بعد چوری کی باتیں منظر عام پر آئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے چڑھائے گئے سونے، چاندی اور نقدی تک غائب کی جا رہی تھی۔
پرانے تنازعات کا بھی ذکر
پون پانڈے نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ پر پہلے بھی بے ضابطگیوں کے الزامات لگ چکے ہیں۔ انہوں نے 2021 کے زمین خریداری تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 2 کروڑ روپے مالیت کی زمین کچھ ہی دیر بعد 20 کروڑ روپے میں خریدی گئی تھی۔ ان کے مطابق، اس معاملے میں بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور چندہ چوری کا معاملہ بھی طویل عرصے تک دبا رہا۔
چمپت رائے پر سنگین الزامات
سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے رام مندر ٹرسٹ کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے پر براہِ راست الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ میں چمپت رائے کی منظوری کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ پانڈے نے الزام لگایا کہ مبینہ طور پر چوری میں ملوث افراد کو تحفظ دیا گیا اور بعد میں انہیں استعفے دینا پڑے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الزامات بے بنیاد تھے تو ٹرسٹ نے ہتکِ عزت کا مقدمہ کیوں نہیں دائر کیا؟
ایس آئی ٹی جانچ پر بھی سوال
پون پانڈے نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی جانچ پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ خود ٹرسٹ ہے اور رپورٹ بھی اسی کو پیش کی جانی ہے، اس لیے جانچ غیرجانبدار نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرائی جائیں اور ضرورت پڑنے پر ٹرسٹ کو تحلیل کرکے نئی انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
آستھا سے وابستہ معاملہ
پون پانڈے نے کہا کہ رام مندر کروڑوں لوگوں کی آستھا کا مرکز ہے۔ اگر یہاں چندے میں بے ضابطگی یا چوری ہوئی ہے تو یہ صرف مالی جرم نہیں بلکہ بھکتوں کے اعتماد کے ساتھ بھی سنگین دھوکہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور معاملے کی ہر پہلو سے شفاف تحقیقات کی جائیں۔