عراقچی:آبنائے ہرمز کا کنٹرول صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی ذمہ داری ہے
5
M.U.H
28/06/2026
تہران: ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے عراقی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کی ذمہ داری ہے
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اتوار کو ایک اعلی رتبہ سیاسی اور سفارتی وفد لے کر سرکاری دورے پر بغداد پہنچے۔
انھوں نے بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم عراق کی نئی حکومت کے ساتھ سبھی سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سیکورٹی کےشعبوں میں تعاون بڑھائيں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم آج عراق کے وزیر اعظم سے ملاقات میں اس بات کا صراحت کے ساتھ اعلان کریں گے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ میرے دورہ بغداد کا ایک مقصد، بغداد، کاظمین، کربلا اور نجف میں شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای قدس سرہ کے جنازے کے بارے میں ضروری ہم آہنگی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دسیوں لاکھ عراقیوں نے رہبر شہید کے جنازے میں شرکت کے لئے آمادگی کا اعلان اور درخواست کی تھی جس کے پیش نظر عراقی حکومت کے تعاون سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ عراق کے مختلف شہروں بالخصوص مقدس شہروں میں بھی رہبر شہید کے جنازے کا پروگرام رکھا جائے۔
انھوں نے کہا کہ باہمی روابط کا جائزہ بھی ان کے اس دورے کا ایک مقصد ہے اور عراقی حکام اور رہنماؤں سے ملاقات میں اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کریں گے۔
سید عباس عراقچی نے اس پریس کانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین کے ساتھ ملاقات میں ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ سے متعلق تازہ ترین صورتحال ، مذاکرات اور ایران امریکا مفاہمتی یاد داشت اور لبنان نیز آبنائے ہرمز کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے مطابق آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور مینجمنٹ ایران کے پاس رہے گا اور 30 دن کے اندر اسلامی جمہوریہ ایران کے ذریعے رکاوٹیں دور کئے جانے کے بعد، جنگ سے پہلے کی حالت بحال ہوجائے گی۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ميں کنٹرول جاری ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ذمہ داری ہے اور اس مفاہمتی یاد داشت کی رو سے، ایران کے علاوہ کسی بھی ملک یا ادارے کی اس سلسلے میں کوئ ذمہ داری نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے کنٹرول سے الگ ہٹ کر انجام دیا جانے والا ہر اقدام، حالات کی پیچیدگی اور کشیدگی بڑھا دے گا اور آبنائے ہرمز کی بحالی میں تاخیر کا باعث ہوگا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مفاہمی یاد داشت کی شق ایک کے مطابق لبنان سمیت سبھی محاذوں پر جنگ بند ہونی چاہئے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے لبنان پر حملے جاری رکھے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت میں امریکا نے اپنے ساتھ ہی صیہونی حکومت کی جانب سے پابندی کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے بنابریں صیہونی حکومت کو جنگ سے روکنا اور جنگ کے خاتمے نیز لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے پسپائی پر مجبور کرنا امریکا کی ذمہ داری ہے ۔