نیویارک میں اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کی ملاقات
7
M.U.H
25/09/2026
نیویارک: اس ملاقات میں مختلف سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کی صورتحال، نیز بین الاقوامی اداروں کی سطح پر ہم آہنگی پر بحث و تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کی جارحیت و یک طرفہ پالیسیوں کی مخالفت اور آزاد ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ناجائز استعمال کی اس کی کوششوں کے خلاف روس کے ذمہ دارانہ موقف کی تعریف کی۔
ایران اور روس کے وزرائے خارجہ نے اس ملاقات میں امریکا کی جانب سے معاہدے کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزی اور اس ملک کی جانب سے اسلام آباد مفاہمت پر عمل سے پرہیز کے بعد مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں موجودہ بحران کو امریکا کی بدعہدی اور ایران کے خلاف اس کے جرائم کا براہ راست نتیجہ قرار دیا اور جنگ کے خاتمے پر منتج ہونے والے مذاکرات کے عمل میں ایران کی نیک نیتی کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جس طرح ڈپلومیسی کے میدان میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، اسی طرح وہ اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے دفاع اور امریکہ کی جانب سے ایران کی قومی سلامتی کے لئے کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنے کے لئے آبنائے ہرمز پر کنٹرول جاری رکھنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے ۔
اس ملاقات میں روس کے وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت اور امریکا و اس کے اتحادیوں کی جانب سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ناجائز استعمال کی کوششوں کے بارے میں اپنے ملک کے اصولی موقف پر دوبارہ زور دیا اور کہا کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قوانین پر توجہ دینا چاہیے۔