ایران کے لیے پروازوں کی بحالی، عراق اور امریکہ کے درمیان مذاکرات
22
M.U.H
26/09/2026
عراقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ بعض عراقی ہوائی اڈوں کو امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دلانے اور ایران کے لیے پروازیں بحال کرنے کے لیے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کر رہی ہے۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر اطلاعات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک، بشمول عراق، کے ہوائی اڈوں کے لیے ایرانی پروازوں سے متعلق اقدامات کے پیش نظر بغداد حکومت امریکی فریق سے براہ راست بات چیت کر رہی ہے تاکہ عراق کے بعض ہوائی اڈوں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جاسکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد انسانی بنیادوں پر ایران کے لیے پروازیں بحال کرنا ہے، جن میں علاج، تعلیم، زیارت اور شہریوں سے متعلق دیگر مفادات شامل ہیں۔
عراقی حکومت نے کہا کہ وہ خطے میں حالات کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ بحرانوں کا تسلسل صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
بیان کے مطابق عراقی حکومت نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ بحرانوں اور تنازعات کے حل تک پہنچنے کے لیے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
اس سے قبل عراقی حکومت کی جانب سے ایران کے لیے پروازیں روکنے کے فیصلے کو ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔