ہم دشمن کو ایسا جواب دیں گے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا: قالیباف
10
M.U.H
25/10/2026
تہران :مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آج پارلیمنٹ کے کھلے اور آن لائن مشترکہ اجلاس کے آغاز پر اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ہم ایران کی عظیم سرزمین کی سالمیت کے خلاف کسی بھی قسم کی گستاخی کا دشمنوں کو ایسا جواب دینے کے لیے تیار ہیں جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر جنگ یا قتل کی دھمکیاں ایرانی قوم کو اپنے حقوق اور مفادات سے دستبردار نہیں کرسکتیں۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ایام شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ولایت کے دفاع میں آپ کی دلیرانہ جدوجہد نے ہم سب کو دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے اور مشکل ترین حالات میں بصیرت سے کام لینے کا درس دیا۔
انھوں نے 4 آبان 1343 (26 اکتوبر 1964) کو امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی جانب سے کیپیچولیشن قانون کے خلاف کیے گئے تاریخی احتجاج کی سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دن امام خمینی نے پہلوی حکومت کی آمرانہ اور امریکا کی پٹھو حکمرانی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون ایرانی قوم کی غلامی کی دستاویز اور ایک قدیم مسلمان قوم کی آزادی و وقار کو امریکی ڈالروں کے عوض فروخت کرنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس دن امام خمینی کے کلام کا اہم اسٹریٹجک اور بصیرت افروز نکتہ امریکا اور صیہونی حکومت کے درمیان اٹوٹ رشتے کو بے نقاب کرنا تھا، ایک ایسا رشتہ جس کی حقیقت آج پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہوچکی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امام خمینی نے اسی روز انکشاف کیا تھا کہ منحوس پہلوی حکومت نے ملک کے معاملات اور معیشت کو امریکا اور صیہونیوں کے مفادات پر قربان کردیا ہے۔ آج بھی، تقریباً چھے عشرے گزرنے کے بعد خطے میں صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات اور پابندیوں، قتل و غارت، فوجی کارروائیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو توڑنے کی واشنگٹن کی کوششیں اسی تسلط پسندی کا تسلسل ہیں۔
اسلامی کونسل کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ آج اور 1964 کے درمیان بنیادی فرق ایرانی قوم کی آزادی اور طاقت ہے۔ ایرانی قوم نے امام خمینی رحمت اللہ علیہ اور شہید امام خامنہ ای کی رہنمائی میں گزشتہ 47 برس کے دوران غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ ہمارا عزیز ایران آج نہ صرف مغرب اور مشرق کے فوجی مشیروں کی کالونی نہیں ہے بلکہ خطے میں ایک طاقتور اور خودمختار قوت ہے، جس نے اس قوم کے امور پر سامراج اور صیہونیت کے دوبارہ تسلط کے خواب کو ہمیشہ کے لیے ایک ڈراؤنے خواب میں بدل دیا ہے۔
ایران پر دباؤ ڈالنے کی امریکی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ امریکی سمجھتے ہیں کہ میڈیا کے دباؤ کے حربوں یا فوجی دھمکیوں سے وہ اس عظیم قوم کو جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں تاہم وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ آج کا ایران پہلوی دور کی تحقیر کا شکار ایران نہیں بلکہ خود اعتمادی، دفاعی صلاحیت اور فولادی عزم کا ایک مضبوط قلعہ ہے جو کسی بھی غیر ملکی طاقت کو اس سرزمین کے وقار کے بارے میں فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے زور دے کر کہا کہ ہم خوف زدہ نہیں ہوں گے اور ایران کی عظیم سرزمین کی سالمیت کے خلاف کسی بھی گستاخی کا دشمنوں کو ایسا جواب دینے کے لیے تیار ہیں جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔انھوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر جنگ یا قتل کی دھمکیاں ایسی چیز نہیں ہیں جو ایرانی قوم کو اپنے حقوق اور مفادات سے دستبردار ہونے پر مجبور کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک امریکی اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتے، اپنی منہ زوری اور لالچ کی روش ترک نہیں کرتے اور اپنی نظر انداز کی گئی ذمہ داریوں کی عملی، ٹھوس اور حقیقی تلافی نہیں کرتے، تب تک اسلامی جمہوریہ کی نظر میں ان کے کسی بھی دعوے کی ذرہ برابر بھی حیثیت نہیں ہوگی۔
قالیباف نے کہا کہ ایران کے پاس کہنے کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ امریکا تھا جو غلط اندازوں کی بنیاد پر ایران کے خلاف جنگ میں کود کر دلدل میں پھنس گیا اور اب خود امریکیوں کو ہی اپنی نجات کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔