’ووٹ چوری‘ کے الزامات پر کھڑگے کا مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر حملہ، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے سمیت 3 بڑے مطالبات پیش
13
M.U.H
26/10/2026
نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹر ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کو لے کر مرکز کی مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹ چوری کے متعدد انکشافات کے باوجود حکومت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بچانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ کھڑگے نے الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے ایس آئی آر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی معلومات عام کرنے اور ووٹر لسٹوں سے غیر قانونی طریقے سے حذف کیے گئے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایس آئی آر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر سے متعلق معلومات حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی) کے تحت مانگی گئیں، لیکن الیکشن کمیشن نے ’تجارتی راز‘ (ٹریڈ سیکریٹس) کا حوالہ دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق، اس معاملے نے انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کانگریس صدر نے اتر پردیش میں ووٹر فہرستوں سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں فارم 6 کے ذریعے موصول ہونے والی 16.18 لاکھ درخواستوں کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھی گئیں۔ انہوں نے پیلی بھیت میں ووٹر ریکارڈ کے 10,470 معاملات میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ کھڑگے کے مطابق، ان معاملات کے بعد ریاست بھر میں فارم 6، 7 اور 8 کی جانچ کے احکامات دینے پر مجبور ہونا پڑا۔
فارم 6 نئے ووٹر کے طور پر نام درج کرانے، فارم 7 ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے اور فارم 8 ووٹر کی تفصیلات میں ترمیم یا متعلقہ تبدیلیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ان فارموں کی جانچ کا مطالبہ ووٹر لسٹوں کی درستگی اور انتخابی عمل کی شفافیت کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت کے خلاف انڈیا اتحاد نے تین اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ پہلا مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے 2023 کے قانون کو منسوخ کرنے کا ہے۔ دوسرا مطالبہ ایس آئی آر کو فوری طور پر روکنے اور غیر قانونی طریقے سے ووٹر لسٹوں سے حذف کیے گئے ناموں کو بحال کرنے کا ہے۔ تیسرا مطالبہ تمام انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے کا ہے۔
کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ لڑائی صرف ووٹ بچانے تک محدود نہیں، بلکہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی عوامی جدوجہد ہے۔ انہوں نے ملک کے باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ یکم نومبر کو دہلی پہنچیں اور رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والے ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ جن مارچ اور مہاریلی میں شرکت کریں۔
کانگریس صدر کی اس اپیل کو انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور چیف الیکشن کمشنر کی جواب دہی کے معاملے پر اپوزیشن کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، کھڑگے کی جانب سے اٹھائے گئے الزامات اور پیش کردہ اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔