جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات بحال کرنے پر اتفاق، 15 دن میں ووٹنگ کا اعلان
35
M.U.H
26/10/2026
نئی دہلی: راجدھانی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج پیر، 26 اکتوبر کو ختم ہوگیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کے تین اہم مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اسٹوڈنٹ یونین کی تشکیل کی منظوری کے بعد 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ مطالبات منظور ہونے کے بعد طلبہ نے اپنی بھوک ہڑتال بھی ختم کر دی۔طلبہ کی جانب سے تحریری مطالبات پیش کیے جانے کے بعد جامعہ انتظامیہ نے اس سلسلے میں باضابطہ حکم جاری کیا ہے۔ طلبہ طویل عرصے سے یونین انتخابات بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جامعہ انتظامیہ نے طلبہ کے تین اہم مطالبات پر اتفاق کیا ہے۔ پہلا مطالبہ طلبہ یونین کے انتخابات بحال کرنے سے متعلق تھا۔ انتظامیہ کے مطابق، اسٹوڈنٹ یونین کی تشکیل کی منظوری کی تاریخ سے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔طلبہ کا دوسرا مطالبہ احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائیوں کو منسوخ کرنے سے متعلق تھا۔ انتظامیہ نے احتجاج کے دوران جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور وجہ بتاؤ نوٹس واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تیسرا مطالبہ سکیورٹی عملے کے کام کاج کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق تھا۔ انتظامیہ نے اس مطالبے کو بھی تسلیم کر لیا ہے۔ اس کمیٹی کے ذریعے احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔معاہدے کے مطابق، احتجاج کرنے والے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کے دوران دیے گئے مبینہ توہین آمیز بیانات، کارروائیوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں کے لیے پریس کانفرنس کے ذریعے عوامی طور پر معافی مانگنے پر اتفاق کیا ہے۔ایسی تمام پوسٹوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے فوری طور پر ہٹانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اس معاملے کو باضابطہ ریکارڈ میں درج کر لیا گیا ہے اور معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کی نگرانی کی جائے گی۔
طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے دوران اتوار کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہنگامہ ہوا تھا۔ شام تقریباً 6:30 بجے غالب کے مجسمے کے قریب واقع لان میں سکیورٹی گارڈ کی وردی پہنے ایک مشتبہ نوجوان داخل ہوا اور مبینہ طور پر ’’فری کشمیر‘‘ کے نعرے لگانے لگا۔ احتجاجی مقام پر پہلے سے موجود طلبہ نے نوجوان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔دوسری جانب، جامعہ کے باہر گیٹ نمبر 7 پر احتجاج کی حمایت میں نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کر رہے تقریباً 6 مظاہرین کو پولیس نے موقع سے حراست میں لے کر وہاں سے ہٹا دیا۔ پولیس کی حراست میں لیے گئے مشتبہ نوجوان نے خود کو غازی آباد کا ڈیلیوری ورکر بتایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ بلنکٹ کے لیے کام کرتا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ جامعہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کی بحالی کے اعلان کے بعد اب طلبہ کی توجہ مقررہ مدت کے اندر انتخابی عمل مکمل ہونے پر مرکوز ہے۔